آبی ذخائر سے مالا مال ضلع اننت ناگ کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ; آبی ذخائر کو بچانے کے حوالے سے لوگوں کی غیر حساسیت نے ندی نالوں کا وجود مٹایا

سرینگر/21اکتوبر: ضلع اننت ناگ اسلام آباد جو قدرتی آبی ذخائر سے مالا مال تھا آج پینے کے صاف پانی کے فقدان سے جھوج رہا ہے جس کیلئے سرکار سے زیادہ مقامی لوگ زمہ دار ہیں جنہوں نے ضلع کی تمام ندی نالوں اور دریائوں میں گندگی وغلاظت ڈالر پانی کو آلودہ بنایا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد اننت ناگ جس کو اننت ناگ اسی بناء پر نام رکھا گیا کیوں کہ وہاں بے شمار (ان گنت) قدرتی چشمے اور دیگر ندی نالے تھے جن میں نالہ لدر، نالہ آرتھ،نالہ برنگی اور نالہ پاندرن قابل ذکر ہیں جو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ساتھ ساتھ اس سے منسلک دوسرے قصبہ جات کو بھی سیراب کرتے ہوئے لوگوں کی آبی ضروریات کو پورا کرتے تھے ۔ آج سے محض 10برس پہلے اننت ناگ کے لوگ ان ہی نالوں اور چشموں کا پانی کھانے پینے ، نہانے اور دھونے کیلئے استعمال کیا کرتے تھے تاہم لوگوںکی خود غرضی اور ماحولیات کے حوالے سے غیر سنجیدگی نے ان ندی نالوں اور چشموں کو نیست و نابود کرکے رکھ دیا ہے ۔ ضلع اننت ناگ کے ٹاون کے لوگوں کے علاوہ تمام دیہات و گائوں کے لوگ ان نالوں میں گندگی ڈالتے ہیں جبکہ ضلع کے تمام بیت الخلائوں سے نکلنے والا فضلہ بھی ان ہی آبی نالوں کی نذر ہوجاتا ہے ۔ ضلع کے کسی بھی گھر میں ٹرنچ نہیں ہے اور نہ ہی متعلقہ محکمہ اس طرف کوئی دھیان دیتا ہے ۔ مذکورہ پانی کے نالوں میں اگر انسان اب ہاتھ دھونا چاہے گا تو وہ بھی نہیں کرسکتا کیوں کہ ان کا پانی اب اس قدر آلودہ اور گندگی سے بھرا ہوتا ہے کہ فوری بیماری لاحق ہونے کا خطرہ پیدا ہوگا۔ وزیر اعظم نریندرمودی کے سوچھ بھارت مشن کے تحت اگرچہ وادی میں بھی مختلف اضلاع میں بیت الخلائوں کی تعمیر کا کام کیا گیا تاہم ضلع میں جہاں بھی سکیم کے تحت بیت الخلا تعمیر کئے گئے ان کی غلاظت بھی ان ہی نالوں میں ڈالی جاتی ہے ۔ جبکہ ضلع کی تمام ڈرینوں اور گندی نالیوں کا پانی بھی ان ہی نالوں میں جاتا ہے جس کے نتیجے میں یہ نالے ختم ہوگئے ۔ سی این آئی نمائندے نے ضلع کے ماحولیات سے دلچسپی رکھنے والے ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ ضلع میں اگر ان ندی نالوں اور دریائوں میں گندی نالیوں اور ڈرینوں کے پانی کو ان میں جانے سے روکنے کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں اور ان نالیوں اور ڈرنیوں سے نکلنے والے گندے پانی و غلاظت کے لئے کوئی متبادل نظام قائم کیا جائے گا تو آج بھی ان نالوں کے پانی کو غلاظت سے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔جس کیلئے سرکاری سطح پر اقدامات اُٹھانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو میں اس حوالے سے بیداری پیداکرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ واضح رہے کہ گلوبل وارمنگ کے چلتے دنیا بھر میں پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے جبکہ جنوبی ایشائی خطے میں بھی اس کا کافی اثر دیکھنے کو مل رہا ہے اور اگر وادی کشمیر کے آبی ذخائر کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کو گندگی سے پاک کرنے کیلئے جلد ہی اقدامات نہیں اُٹھائے گئے تو وہ دن دور نہیں جب اہلیان کشمیر کو پینے کے صاف پانی کی ایک ایک بھوند کیلئے ترسنا پڑے گا۔

Comments are closed.