سرینگر/21اکتوبر : کپوارہ کے آوورہ علاقے میںدہائیوں قبل تعمیر کیاگیا پنچائت گھر کی عمارت ہنوز تشنہ تکمیل ہے اور اس طرف متعلقہ محکمہ کی عدم توجہی کی وجہ سے عمارت خستہ حالی کی شکار ہوچکی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق شمالی کشمیرکیاآوورہ کپوارہ علاقے میں 1996میں تعمیر شدہ پنچایت گھر کی عمارت خستہ حال ہوچکی ہے مقامی لوگوں نے بتایا کہ آورہ کپواڑہ میں عرصہ دراز قبل پنچایت گھر کی عمارت تعمیر کی گئی ہے جو اب مکمل طور پر بوسیدہ ہوچکی ہے اور عوام مزکورہ پنچایت گھر عمارت کو بطور کوڑے دان استعمال کرتے ہیں جبکہ مقامی گرام پنچایت ممبران اور سرپنچ کو گاوں کے مسائل کے حوالے سے میٹنگ اور دیگر ضروریات پوری کرنے کیلئے سر راہ بیٹھنا پڑتا ہے مقامی سرپنچ اور واڈ ممبران نے بتایا کہ وہ پر زار الفاظ میں محکمہ دھی سدھار سے مانگ کرتے ہیں کہ مزکورہ گاوں میں گرام پنچایت کیلئے کے امور کار جاری رکھنے کیلئے پنچایت بلڈنگ تعمیر کی جائے تاکہ مزکورہ گاوں کی گرام پنچایت عوامی مسائل کو حل کرانے اور گاوں کے حوالے سے تعمیر وترقی اور دیگر مشاورت کے امور کو پورا کرنے کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور نہ ہو جائیں اس دوران کئی دیگر دیہات سے بھی مقامی گرام پنچایت ممبران نے بھی پنچایت گھروں کی خستہ حالت کی روداد بیان کی ہے جبکہ اکثر جگہوں پر پنچایت گھروں کو سرکاری پراپرٹی سمجھ کر لوگوں نے توڑ پھوڑ کر کے رکھ دیا ہے جبکہ ان پنچایت گھروں کی تعمیر کیلئے محکمہ دھی سدھار نے کروڈوں روپے خرچ کر کے تعمیر کیے گئے ہیں تاہم سرکاری تنصیبات کی حالت زار ہر جگہ پر دیکھنے کو مل رہی ہے۔جس کیلئے کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.