6 مہینوں میںگراؤٹ کے بعدگزشتہ ماہ جنگجوگروپوں میں مقامی نوجوانوں کی شمولیت میں اضافہ : لیفٹنٹ جنرل بی ایس راجو

شورش اورجنگجوئیانہ سرگرمیوں میں پاکستان براہ راست ملوث

250 سے300جنگجو لائن آف کنٹرول کے اُس پار دراندازی کے منتظر

سری نگر:۰۱، اکتوبر: فوج کی15ویں کورکے سربراہ لیفٹنٹ جنرل بی ایس راجو نے جنگجوگروپوں میں مقامی نوجوانوں کی بھرتی میں اضافہ ہونے کااشارہ دیتے ہوئے سنیچر کے روز کہاکہ کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ سے جنگجوؤں کی بھرتی میں اضافہ ہوا ہے۔فوج کے اعلیٰ کمانڈر کا کہنا ہے کہ کشمیر میں جنگجوؤں کی بھرتیوں میں اضافہ دیکھنے میں ملا ہے۔انہوں نے کشمیر میں جاری شورش اورجنگجوئیانہ سرگرمیوں میں پاکستان کوبراہ راست ملوث قرار دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے ابھی تک کوئی سبق نہیں سیکھاہے بلکہ سرحدپار جنگجوؤں کی دراندازی اورجنگجوگروپوں کی مددکاسلسلہ جاری رکھاگیاہے ۔لیفٹنٹ جنرل بی ایس راجو نے غیرملکی جنگجوؤں کواصل خطرہ قراردیتے ہوئے کہاکہ ایک بار جب ہم تمام غیر ملکی عسکریت پسندوں کو مار ڈالیں گے تو وادی میں امن قائم ہوجائے گا۔ جے کے این ایس کے مطابق لیفٹنٹ جنرل بی ایس راجو نے سری نگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ پچھلے6 مہینوں میں جنگجوتنظیموں میں نوجوانوں کی بھرتی یاشمولیت میں کمی آئی تھی لیکن اب اس میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ لگ بھگ 250 سے300جنگجو لائن آف کنٹرول کے اُس پار دراندازی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیکن ہم ان کی دراندازیوں کو روکنے میں کسی حد تک کامیاب رہے ہیں۔فوج کی15ویں کورکے سربراہ کاکہناتھاکہ پچھلے سال 130جنگجو دراندازی کرکے اسپارگھس آئے تھے لیکن رواں سال ابتک یہ تعداد 30 سے کم پائی گئی ۔فوج کے اعلیٰ کمانڈرکاکہناتھاکہ دراندازی کی کوشش کاناکام ہوناہمارے لئے ایک بہت بڑی کامیابی اور پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔جی او سی بی ایس راجو نے مزید کہا کہ ایسی کوششوں سے ، ہمیں بڑی اُمید ہے کہ اندرونی صورتحال بہتر ہوجائے گی۔انہوں نے کہاکہ سیکورٹی فورسزلائن آف کنٹرول پردراندازی اورناجنگ معاہدے کی خلاف ورزیوں سمیت کسی بھی نوعیت کے چیلنج کامقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے ۔انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن پر صورتحال قابو میں ہے لیکن جنگجوؤں کی دراندازی کے لئے پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔لیفٹنٹ جنرل بی ایس راجو نے کہاکہکنٹرول لائن کو عبور کرنے والے جنگجو بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال رہے ہیں۔فوج کے اعلیٰ کمانڈر نے بتایا کہ فوج نے سنیچر کی صبح شمالی کشمیر کے کیرن سیکٹر میں دریائے کشن گنگا میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی اور اسلحہ و گولہ بارود کا بھاری ذخیرہ برآمد کرلیا۔جسمیں 4 اے کے 47رائفلیں ، 8 میگزین اور گولیوں کے240 راو¿نڈ شامل تھے۔شوپیاں کے فرضی انکاؤنٹر کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لیفٹنٹ بی ایس راجو نے کہاکہ ہم نے شواہد کی تفصیل حاصل کرنے کا حکم دیا ہے،تاہم ابھی آدھاکام ہواہے لیکن ہم توقع کرتے ہیں کہ اسے جلد سے جلد مکمل کرلیا جائے تاکہ مزید اقدامات اٹھائے جاسکیں۔جنگجومخالف آپریشن کوکامیاب قرار دیتے ہوئے لیفٹنٹ جنرل بی ایس راجونے مزید کہا کہ ہم نے ان علاقوں میں مختلف سطح کے امن کا مشاہدہ کیا ہے جہاں یہ غیر ملکی عسکریت پسند مارے جاتے ہیں۔ پلوامہ اور شوپیاں اس کےلئے بہترین مثال ہیں۔جی او سی بی ایس راجو نے کہا کہ یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ گذشتہ ایک ماہ میں کشمیر میں جنگجوگروپوں میں نوجوانوں کی بھرتی کی شرح بڑھی ہے لیکن ان میں سے بہت سے لوگ جو پہلے ہی ان صفوں میں شامل ہیں (عسکریت پسند) ہتھیار ڈالنے کے لئے سامنے آرہے ہیں ، جو ایک بہت اچھی علامت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار جب ہم تمام غیر ملکی عسکریت پسندوں کو مار ڈالیں گے تو وادی میں امن آجائے گا۔جب ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ سرحدوں کے نزدیک پاکستان کے ذریعہ ہتھیارگرائے جارہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا کرتے ہیں تاکہ وہ کشمیری نوجوانوں کو دھوکہ دیں اور ساتھ ہی تشددی کاروائیاں جاری رہیں۔

Comments are closed.