سرینگر 8 اکتوبر : دفعہ 370 اور 35 A کو مرکز میں بی جے پی کی سرکار نے آئینی ہند سے ہٹا کر ریاست جموں کشمیر کی عوام کے نہ صرف مسلمہ قانونی اور آئینی گارینٹی اور حقوق کو سلب کیا اور نوآبادیاتی نظام قائم کیا بلکہ بْنیادی انسانی حقوق پر بھی شب و خون مار کر ریاستی عوام کے تشخص اور شناخت کو مٹانے کی منعظم اور منذوم کوشیشیں دردست لے لی ہیں ۔اس عمل سے جہاں ایک طرف قانونی طور نہ صرف ریاست کے تئیں اپنی خود کی حکمرانی پر سوالیا نشان ثبت کیا بلکہ آئینی ہند کی خلاف ورزی اور توہین کا دیدہ دانستہ طور ارتقاب کیا ۔عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ شاہ نے ان باتوں کا اظہار اپنے ایک پریس بیان میں کیا اور کہا کی ریاست جموں کشمیر کو ہندوستان کے موجودہ حکمرانوں نے ہندوستان کی ایک کالونی بنا کر اپنی نوکر شاہی کے غلام بنا کر چھوڑا ہے۔ریاست کے عوام پر نت نئے قوانیں کا اطلاق کر کے انہیں نہ صرف سیاسی و سماجی و ذہنی طور پامال کیا جا رہا ہے بلکہ اقتصادی اور معاشی طور کمزور اور بد حالی کی طرف دکھیل دینے کی سعی کی جارہی ہے۔اس کی تازہ مثال آوقاف اسلامیہ کی جایداد جس کو مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے یہاں کے غیور اور تجارت پیشہ ورلوگوں کی عملی جدوجہد اور کاوِشوں اور مالی معاونت سے موردِ وجود لایا گیا ہے اور بے شمار تجارتی و غیر تجارتی عمارات کھڑی کی ہیں اور اپنا ذاتی سرمایا لگا کر رقبہ جات پر دْکانات و دیگر تعمیارات کر کے اپنی روزی روٹی کمانے کا سلسلہ شروع کیا اور یہ تجارتی طبقہ یہاں وقف کے ان دْکانوں وغیرہ میں سال ہا سال سے جائیز طور اپنا کاروبار یہاں چلا رہے ہیں اب مرکز کے اس نئے مشن کے طور سنٹرل وقف بورڈ آف انڈیا کی جانب سے یہ دْکانات خالی کرنے کا نوٹس جاری کرایا جا رہا ہے جس سے ان ہزاروں تجارت پیشہ ور اشخاص میں زبر دست تشویش اور نارضگی پیدا ہوئی ہے۔اس اقدام سے ریاست میں پہلے سے ہی عوام انتہاہی مالی مشکلات سے جوج رہے ہیں اور کاروباری ادارے عرصے دراز سے بند پڑے ہیں اور ان حالات میں ان پر مزید مشکلات پیدا کرنا اور ان کی روزی روٹی چھین لینا ایک ناجایز غیر قانونی عوام دْشمن اقدام ہو گااور اس کے دورس نتایج برآمد ہونگے۔بیگم خالدہ شاہ نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی سرکار کی جانب سے یہاں کی اکثریتی فرقہ کی تئیں انتہائی سنگین اورضالمانہ اور انسانیت سوز اقدامات بی جے پی کی مسلم دْشمنی کا برملا اوراعلانیہ عمل ہے۔انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب ایک اور مسلم دشمن مشن شروع کیا گیا ہے کہ یہاں کے مذہبی اور دینی اداروں پر بھی قبضہ جمایا جائے اور یہاں کے دینی اداروں ،مساجد اور آستانوں کے منتظمین کے ساتھ اثر رسوخ پیدا کر کے ان پر بی جی پی کے ایجنٹوں کی زیر پرستی اور کمانڈ میں رکھا جائے۔اس گھنوانے مشن کو سر انجام دینے کے لئے مرکزی بی جے پی سرکار کی سنٹرل وقف بورڈ کی ایما پر ان کی ایک ممبرنے ریاست میں اپنے قدم جماتے ہوئے اس کی شرواعات کی ہے اور کچھ عرصے سے یہاں کے مختلف مقامات ۔آستانوں ۔زیارت گاہوں،دینی مقامات میں جا کران کے منتظمین کرپٹ کرنے کی شروعات کی گئی ہے اور اس نسبت انہیں باری بھر رقومات تعمیر جدید اور دیگر امورت کے نام پر پیش کرنے کی خبریں ملِ رہی ہیں۔ تاکہ ان مذہبی اداروں میں بھی بی جے پی سرکار کا اثر رسوخ پیدا کرنے کی تگ دو ہو رہی ہے۔محترمہ خالدہ شاہ نے مرکزی سرکار کے ان اقدامات کے خلاف اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ وہ ریاست جموں کشمیر میں ایسی سیاست گری اور ناجائز اقدامات سے باز رہے۔ علماء دین اور ان اداروں کے منتظمین کو خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور بی جی پی کی طرف سے ایسی تمام منذوم اور ناجائیز اقدامات کو ناکام بنائے ۔اے این سی مرکز سرکار کو متنبہہ کرتی ہے کہ وہ حوش کے ناخن لے اور ایسے ناجائز ،غیر قانونی غیر اخلاقی حرکات و سکنات سے باز آجائے مذہبی اداروں کے امورات میں دخل اندازی نہ کریں اور ریاست جموں کشمیر کے عوام کے تئین ایسے غیر قانونی غیر آئینی اور تانا شاہی احکامات صادر کرنے سے باز آئے اور اپنے آئینی ہند کی سیکولر اور Diverst روح کومذید پامال نہ کریں (کے این ٹی)
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.