کپوارہ کے جنگلات کا بڑی دردی کے ساتھ صفایا جاری
جنگل چوری پر جلد قابو نہ پایا گیا تو قوم جلد ہی قدرتی خزانے سے محروم ہوگی
سرینگر/08اکتوبر/سی این آئی// سرحدی ضلع کپوارہ کے جنگلات کا نامساعد حالات کی آڑ میں بڑی بے دردی کے ساتھ صفایا کیا جارہا ہے جس پر عوامی حلقوںنے سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ جنگل چوری پر جلد ہی قابو نہیں پایا گیا تو قوم اس نایا ب قدرتی خزانے سے محروم ہوجائے گی۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کپوارہ میں جنگلوں کا بڑے پیمانے پر صفایا جبکہ غیر قانونی طور پرسر سبز درخت کاٹنے کی کارروائیاںجاری ہے،محکمہ جنگلات اورانتظامیہ مکمل طور پر خاموش ،سبز سونے کی لوٹ کھسوٹ پر لوگوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر صورتحال پر قابو پانے کیلئے موثر اقدامات نہیں اٹھا ئے گئے تو آنے والے دنوں کے دوران وادی کو جنگلوں سے محروم ہونا پڑے گا ۔معلوم ہوا ہے کہ جنگل سمگروں کی جانب سے لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ بڑے پیمانے پر شروع کر دیا گیا ہے جبکہ سر سبز سونے کی اسمگلنگ عروج پر پہنچ گئی ہے ۔ شمالی کشمیر کے کیگام ، شاہ ولی مقام، کولنگام ، راجوار اور چوکی بل کے چند کمپارٹمنٹ جنگل سمگلنگ کی آمجگاہ بن گئی ہے۔ اس ضمن میں مقامی لوگوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے ملازمین کی لاپرواہی کی وجہ سے مذکورہ کمپارٹمنٹ میں سرسبز اور قیمتی درختوں کابڑے پیمانے پر صفا یا ہو رہا ہے اور بڑی تعداد میں جنگل اسمگلر دن کے اجھالے میں سر سبز درختوں کو تہہ تیغ کر کے عمارتی لکڑی ضرورت مندوں کو نشیبی علاقوں میں فروخت کرنے کی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں ۔ جنگل اسمگلر کھلے عام عمارتی لکڑی فروخت کرنے کی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں ۔ نمائندے کے مطابق فارسٹ ڈویژن میں نصب درجن کمپارٹمنٹوں کا مکمل طور پر صفایا کر دیا گیا ہے ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ فارسٹ پروٹکشن فورس کو اگرچہ جنگلات کی حفاظت پر معمور کیا گیا ہے تاہم وہ درختوں کی کٹائی کے بعد جائے واردات پر پہنچ رہے ہیں ۔
Comments are closed.