امشی پورہ جھڑپ :سوگن شوپیان کا نوجوان گرفتار ، افراد خانہ کا سرینگر میں احتجاج

ملوثین کو بچانے کیلئے ان کے بیٹے کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ، لیفٹنٹ گورنر سے مداخلت کی اپیل

سرینگر/05اکتوبر: امشی پورہ شوپیان جھڑپ کے معاملے میں گرفتار کئے گئے سوگن شوپیان کے نوجوان کے اہل خانہ اور شتہ داروں نے پریس کالونی سرینگر میں زور دار احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امشی پور ہ میں معصوم نوجوانوں کی ہلاکت میں ملوثین کو بچانے کیلئے ان کے بیٹے کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر سے معاملے میںمداخلت کی اپیل کی ہے ۔ سی این آئی سٹی رپورٹر کے مطابق سوگن شوپیان سے تعلق رکھنے والے مرد خواتین کی ایک بڑی تعداد سوموار کی صبح پریس کالونی سرینگر میںنمودار ہوئی اور انہوں نے احتجاج کیا ۔ اس موقعہ پراحتجاجی مظاہرین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 12اگست کو تابش نظیر نامی نوجوان کو فوج نے گرفتار کر لیا جس کے بعد انہیں پولیس کے حوالہ کر دیا گیا ۔ تابش کے والد نظیر احمد نے میڈیا کو بتایا کہ بیٹے کی گرفتاری کے بعد جب انہیں کوئی سراغ نہیں ملا توا انہوں نے ضلع پولیس لائنز شوپیان میں گمشدگی کی دپورٹ درج کرانی چاہیے تاہم وہاں تعینات ایک پولیس آفیسر نے ان کی شکایت پھاڑ دی اور اس کے بجائے مجھ سے ایک خالی کاغذ پر دستخط کرنے کو کہا ۔ نظیر احمد کا کہنا تھا ’’پولیس آفیسر نے مجھے بتایا کہ اس نے تابش کو بچایا ورنہ ہمارے بیٹے کو عسکریت پسند قرار دیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا ’’اب اچانک ان کے بیٹے کا تعلق 18 جولائی کے ایمشی پورہ سے اس بنا پر جوڑا جا رہا ہے کہ "اس نے تین عسکریت پسندوں کے بارے میں فوج کو اطلاع دی ، جو ایک بے بنیاد الزام ہے۔”اس موقعہ پر تابش کی والد ہ نے بھی کہا کہ ان کے بیٹے پر الزامات عائد کیے جارہے ہیں اور وہ 12 اگست سے زیر حراست ہیں۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ میرا بیٹا مزدور ہے اور اسے فوج نے پہلے اٹھایا اور پھر پولیس کے حوالے کیا‘‘۔انہوں نے کہا ’’ راجوری سے تین بے گناہ مزدوروں کو ہلاک کرنے والوں کو بچانے کے لئے اب اسے جان بوجھ کر امشی پورہ انکاؤنٹر سے جوڑا جارہا ہے۔‘‘انہوں نے کہا "ہمارے بیٹے کو ہمارے بارے میں کسی اطلاع کے بغیر عدالت میں پیش کیا گیا۔ دوسروں کو بچانے کے لئے اسے قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے‘‘۔انہوں نے اس معاملے میںجموںکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر سے مداخلت کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے کو جلد از جلد رہا کیا جائے ۔

Comments are closed.