امشی پورہ شوپیان جھڑپ کے 70روز بعد بارہمولہ میں قبر کشائی کی گئی

راجوری کے تینوں جاں بحق نوجوانوں کی نعشیں لواحقین کے سپرد

فرضی جھڑپ میں ملوثین کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے / لواحقین کا مطالبہ

سرینگر/03اکتوبر: امشی پورہ شوپیان جھڑپ میں جاں بحق راجوری کے تین نوجوانوں کی 70روز بعد قبر کشائی کی گئی جس کے بعد نعشیں لواحقین کے سپرد کی گئیں ۔ اس موقعہ پر لواحقین نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ میںملوث افراد کے خلاف کارورائی ی جائے تاکہ انہیں انصاف فراہم ہو سکے ۔ سی این آئی کے مطابق 18جولائی کو شوپیان کے امشی پورہ علاقے میں پیش آئی جھڑپ کی پولیس اور فوج کی تحقیقات کے بعد جھڑپ میںمارے گئے تین راجوری کے نوجوانوں کی سنیچروار کی صبح قبر کشائی ی گئی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ قبر کشائی کا عمل صبح چھ بجے شیری بارہمولہ میں شروع ہوا جہاں اْنہیں دفن کیا گیا تھا۔جس کے بعد تینوں نوجوانوں کی نعشوں کو لواحقین کے سپرد کر دیا گیا۔ خیال رہے کہ سال رواں کے 18جولائی کو فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اْنہوں نے امشی پورہ شوپیان میں ایک معرکہ آرائی کے دوران تین جنگجوئوں کو جاں بحق کیااور ان کے قبضے سے قابل اعتراض مواد بھی بر آمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔ جھڑپ کے بعد جاں بحق ہوئے تینوں جنگجوئوں کی نعشیں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد راجوری سے تعلق رکھنے والے تین کنبوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جھڑپ میں جنگجو نہیں بلکہ ان کے تین لخت جگر مارے گئے ہیںجو کچھ دنوں قبل ہی شوپیان کام کے سلسلے میں گئے تھے ۔ راجوری کے اہل خانوں کے دعویٰ کے بعد فوج اور پولیس نے الگ الگ طریقے سے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی تھی اور تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ جھڑپ میں جنگجو نہیں بلکہ راجوری کے تین نوجوان امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرارکو جاں بحق کیا گیا ہے جس کے بعد لواحقین نے میتوں کی سپردگی کا مطالبہ کیا تھا اور جموں کشمیر پولیس نے قانونی لوازمات کی ادئیگی کے بعد قبر کشائی کے ذریعے لاشیں نکال کر لواحقین کے سپرد کی گئیں۔ ادھر تینوں نوجوانوں کے لواحقین نے مطالبہ کیا کہ فرضی جھڑپ میںملوث فوجی اہلکاروںکو سخت سے سخت سزا دی جائے ، انہوں نے کہا کہ فرضی جھڑپ میں ان کے تین بے قصور لخت جگروں کو جاں بحق کیا گیا ہے اور کہا کہ ملوثین کے خلاف کارروائی عمل میںلائی جائے تاکہ انہیںانصاف فراہم ہو سکے ۔

Comments are closed.