رانچی سول کورٹ کا اہم فیصلہ ، تبلیغی جماعت سے منسلک تمام غیر ملکی باشندے بری؛ وطن واپسی کی راہ ہوئی ہموار
سرینگر /29ستمبر / کے پی ایس : رانچی سی جے ایم عدالت کے ایک اہم فیصلہ کے تحت تبلیغی جماعت سے وابستہ تمام غیرملکی باشندوں کو بری کر دیا ہے۔ ڈسچارج پٹیشن پر فائنل سماعت کے دوران عدالت نے دفعہ یو ایس۲۶۹، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ اور اپیڈیمک ڈیزیز ایکٹ کے تحت جرمانے کے طور پر ۲۲- ۴۲ سو روپیہ کے نجی مچلکوں کی ادائیگی کے بعد تمام لوگوں کو بری کر دیا ہے۔موصولہ تفصیلات کے مطابق رانچی سول کورٹ نے تبلیغی جماعت سے منسلک تمام غیر ملکی باشندوں کو بری کردیا ہے جس ان کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوئی ہے ۔تبلیغی جماعت سے وابستہ تمام غیرملکی باشندے بری کردئے گئے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ کورٹ سے تمام مقدمات ختم ہو جانے پر سبھی غیر ملکی باشندوں نے بے انتہا خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اب ان لوگوں کے جلد ہی اپنے وطن واپسی کا امکان روشن ہو گیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ معزز عدالت نے صرف ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کو برقرار رکھا تھا جسکے تحت چھ ماہ کی سزا ہے۔ چونکہ ان غیر ملکی باشندوں نے تین ماہ اور چند دنوں کی سزا کاٹ چکے تھے اس لئے آج عدالت نے ان تمام لوگوں کے اچھے اعمال اور کردار کو دیکھتے ہوئے نجی مچلکوں پر رہا کر دیا۔واضح رہے کہ گذشتہ۳۰ مارچ کو رانچی کے ہندپیڑھی میں قیام پذیر ۲۲ سالہ ملیشیائی خاتون کورونا مثبت پائی گئی تھیں۔ جھارکھنڈ میں کورونا مثبت کا یہ پہلا معاملہ تھا۔ تبلیغی جماعت سے منسلک غیرملکی باشندوں کے ساتھ رانچی پہنچی ملیشیائی خاتون کے کورونا مثبت ہونے کے بعد ہندپیڑھی کے مساجد میں قیام پذیر تمام غیرملکی افراد کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور پھر ہندپیڑھی پولیس اسٹیشن میں ۷ اپریل کو انکے خلاف ویزا ایکٹ۔ فارن ایکٹ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر رانچی کے ہٹوار واقع برسہ منڈا سینٹرل جیل بھیج دیا گیا تھا۔ گرفتار ہونے والے غیرملکی باشندوں میں ملیشیا کے چار مرد اور چار خواتین۔ انگلینڈ کے تین، بنگلہ دیش، گامبیا اور ترینی داد اینڈ ٹوبیگو آئی لینڈ کے دو۔ دو افراد شامل تھے۔رانچی کے سینٹرل جیل میں سزا کاٹ رہے ان غیر ملکی باشندوں کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے ذریعہ ۱۵ جولائی کو دس۔ دس ہزار روپیہ کے نجی مچلکوں پر ضمانت ملی تھی۔ اس سے قبل۱۲ مئی کو نچلی عدالت کے ذریعہ ان لوگوں کی ضمانت کی عرضی خارج کر دی گئی تھی۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد سینٹرل جیل سے۲۱ جولائی کو ان تمام ?? غیر ملکی باشندوں کی رہائی ہوئی تھی۔ تب سے یہ سبھی لوگ رانچی کے جامیعہ نگر میں قیام پذیر تھے۔اس درمیان کانگریس رکن اسمبلی ڈاکٹر عرفان انصاری اور بندھو ترکی نے ریاستی حکومت سے ان تمام غیر ملکی باشندوں کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا تاہم رانچی کی جی ایم کورٹ کے آج کے فیصلے سے ان تمام غیر ملکی باشندوں کو جلد ہی اپنے اپنے وطن واپسی کا امکان روشن ہو گیا ہے
Comments are closed.