گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں تعینات ڈاکٹروں کی کارستانی
غریب مریضوں کو بازار سے ’’لینس ‘‘ خریدنے پر کیا جاتا ہے مجبور، دکانداروں سے ساز باز
سرینگر/29ستمبر: گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں شعبہ ’’آئی‘‘میںغریب مریضوں کو بازروں سے ’لینس‘ لانے پر مجبور کیا جارہا ہے جبکہ ’لینس‘ سرکاراور دیگر رضاکار انجمنوں کی جانب سے مفت دئے جاتے ہیں تاکہ غریب مریضوں کو اس کا فائدہ حاصل ہو ۔ تاہم شعبہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ادویات کی دکانوں سے کمیشن حاصل کرکے مریضوں کو بازاروں سے لینس خریدنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع گورنمنٹ میڈیکل کالج میں شعبہ ’’آنکھ‘‘جہاں پر مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اور مریضوں کی آنکھو ں کا آپریشن بھی انجام دیا جاتا ہے تاہم یہاں آنے والے غریب مریضوں کو بازاروں سے ’لینس ‘لانے پر مجبور کیا جاتا ہے جس کی قیمت پانچ ہزار سے بیس ہزار روپے تک ہوتی ہے ۔غریب مریضوں نے اس صورتحال پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غربت کے مارے غریب سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرانے کیلئے اسی لئے آتے ہیں کیوں کہ وہ پرائیویٹ علاج کرنے کی سکت نہیں رکھتے لیکن سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے دوران بھی اگر انہیں ادویات اور دیگر سامان بازاروں سے خریدنا پڑے گا تو غریب مریضوں کو سرکاری ہسپتال جانے کا کیا فائدہ ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جی ایم سی اننت ناگ میں شعبہ ’’آئی‘‘ میں جن مریضوں کی آنکھوں کا آپریشن کیا جاتا ہے انہیں بازاروں سے ’’لینس ‘‘ لانے کیلئے کہا جاتا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کئی رضاکار تنظیموں کی جانب سے جی ایم سی اننت ناگ کو ’لینس‘مفت دئے جاتے ہیں تاکہ ضرورتمند مریضوں کو یہ لینس لگائے جائیں اس کے علاوہ سرکار کی جانب سے بھی لینس فراہم کئے جاتے ہیں لیکن یہاں کی صورتحال مختلف ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ جی ایم سی میں تعینات شعبہ آئی کے ڈاکٹر نجی ادویات کی دکانوں سے ساز باز کرکے ان سے کمیشن حاصل کرتے ہیں اور غریب مریضوں کو ان دوکانوں سے ’لینس ‘ خریدنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ اس صورتحال پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے لوگوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیکر معاملے کی چھان بین کرائیں اور قصور واروں کے خلاف کارروائی کریں تاکہ غریب مریضوں کو بازاروں سے ادویات اور لینس خریدنے پر مجبور کرنے والوں سے جواب طلبی ہو۔
Comments are closed.