16جون کو سنگم مڑہامہ میںماں کے ہمراہ غر قاب ہوئی 13سالہ بچی کی ؛ نعش 103روز بعد دریائے جہلم سے بر آمد ، علاقے میں پھر قیامت صغری بپا

سرینگر/28ستمبر: جنوبی ضلع اننت ناگ کے سنگم علاقے میں 103روز بعد دریائے جہلم سے 13سالہ بچی کی نعش بر آمد کر لی گئی ہے جو ماں کے ہمراہ دریا میں ڈوب چکی تھی ۔ اسی دوران جونہی بچی کی نعش آبائی علاقے میں پہنچائی گئی تو وہاں قیامت صغریٰ کے بپا ہوئی۔ سی این آئی کے مطابق امسال 16جون کو سنگم مڑہامہ علاقے میں اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی تھی جب ماں بیٹی دریائے جہلم میں ڈوب گئیں تھی ۔ سلیمہ بانو زوجہ غلام حسن ڈار اور اس کی 13سالہ بیٹی نگہت جان اس وقت دریائے جہلم میں ڈوب گئی جب نگہت جانے دریا میں گرمی کی شدت سے بچنے کیلئے نہانے میں مصروف تھی جس دوران وہ غرقاب ہوئی اور دریا کے کنارے پر کپڑے دھو رہی اس کی ماں نے جب بیٹی کو ڈوبتے ہوئے دکھا تو انہوں نے بیٹی کو بچانے کیلئے چھلانگ لگائی جس دوران دنوں ماں بیٹی غر قاب ہو ئی ۔ اگرچہ سلیمہ بانو کی نعش اس وقت بازیاب کر لی گئی تھی تاہم اس کی بیٹی کا ابھی تک کوئی اتہ پتہ نہیں تھا اور آج صبح اس کی بوسیدہ نعش دریا سے بر آمد کر لی گئی ۔ پولیس کے ایک سنیئر آفیسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سوموار کی صبح جعفر پورہ مڑہامہ علاقے میں دریائے جہلم کے کنارے بوسیدہ نعش بر آمد کو لی گئی جس کے بعد اس کی پہنچان 16جون کو غرقاب ہوئی نگہت جان کے بطور ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ ضروری لوازمات کی ادئیگی کے بعد پولیس نے نعش کو آخری رسومات کیلئے لواحقین کے سپرد کر دیا ۔ ادھر جونہی علاقے میں نگہت جان کی نعش کی باز یابی کی خبر پھیل گئی وہاں ایک مرتبہ پھر قیامت صغرٰی کے مناظر دیکھنے کو ملیں ۔

Comments are closed.