عالمی وبائی بیماری میں بھی لوگ بجلی ،پانی اور غذائی کی قلت سےدوچار

عوامی مشکلات کا ازالہ کرنے کےلئے نتظامیہ ٹس سے مس نہیں ،لوگوں کو سر راہ چھوڑ دےاگیے

سرینگر/28ستمبر: کورنا وائرس کی وبائی بیماری میں بھی بنےادی سہولےات کی عدم دستےابی کے سلسلے میں زمینی سطح پر ہاہا کار مچی ہوئی ہے پینے کے پانی کی عدم دستےابی پر لوگ سڑکوں پرآنے کیلئے مجبور ہو رہے ہیں ،وادی کشمیر کے شمال وجنوب میں لوگ بجلی ،پانی اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔جبکہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق بنےادی سہولےات کی عدم دستےابی کو دور کرنے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے زمینی سطح پر اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں جس کے نتےجے میں لوگوںمیں ہاہا کار مچی ہوئی ہے ۔وادی کشمیر کے شمال و جنوب لوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کرنے پر مجوبر ہو رہے ہیں کئی علاقوں میں ٹرانسفارمر بےکار ہوچکا ہیں اور کئی میں پانی کی نایابی کو لیکر احتجاج ہو رہے ہیں ۔لوگوں نے الزام لگایا کہ ٹرانسفارمر کو نصب کرنے کیلئے پی ڈی ڈی محکمہ کے اہلکاروں نے ضرورت محسوس نہیں کی جس کے نتےجے میں متعدد علاقے سورج غروب ہونے کے بعد گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں ۔وادی کشمیر کے شمال و جنوب میں لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ محکمہ انجینئرپی ڈی ڈی کو کئی بار آگاہ کیا گےا تاہم محکمہ کے ہ آفےسر بھی اس حوالے سے کوئی کارگر اقدامات اُٹھانے میں کوئی کاروائی عمل میں نہیں لاتے ہیں ۔ اسی طرح وادی کشمیر میں پینے کے صاف پانی کو لیکر ایسا ہی حال ہے ،وادی کے کئی علاقوں کے لوگوں نے بتاےا کی علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اور پی ای ای محکمہ وادی کے عوام کو بنےادی ضرورت فراہم کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوتا جارہا ہے جبکہ طبی سہولےات کا فقدان اس قدر پایا جارہا ہے کہ ڈاکٹروں کے نجی کلنکوں پر اسپتالوں سے زیادہ بےمار دکھائی دےتے ہیں اور اسطرح سرکاری اسپتالوں کی افادےت مکمل طور پربے معنی ہوکر رہ گئی اور انتظامیہ خواب خرگوش میں پڑی ہوئی ہے ۔

Comments are closed.