کووڈ 19کے انفکشن کیلئے سکول کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ؛ سکول کھلنے کے ساتھ ہی والدین سے تحریری اقرارنامہ حاصل
سرینگر/21ستمبر: جموں کشمیر میں آج قریب سات ماہ کے بعد دوبارہ کھل گئے ہیںتاہم سرکار نے کووڈ 19کو سکولوں کے زریعے مزید پھیلنے کی ذمہ داری سے اپنا پلو جھاڑتے ہوئے اس کی ذمہ داری والدین کے سر پر ہی ڈالتے ہوئے والدین سے کہا تحریراقراردنامہ پر دستخط حاصل کرنے کا عمل شروع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر بچے سکول میں وائرس کے شکار ہوں گے تو اس کیلئے سکول ذمہ دار نہیں ہوگی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر سرکار نے یوٹی میں دوبارہ سکول کھولنے کے ساتھ ہی والدین سے کہا ہے کہ اگر وہ بچوں کو اپنی زمہ داری پر سکول بھیجیں اور دوران سکول طلبہ وائرس کے شکار ہوں گے تو اس کیلئے والدین ہی زمہ دار ہوگی ۔ سوموار سے جموں کشمیر میں قریب سات ماہ کے بعد 9ویں سے 12ویںجماعت کے سکول دوبارہ کھول دئے گئے ہیں ۔ مرکزی وزارت گھریلو اور صحت و خاندانی بہبود شعبہ نے فیصلہ کیا تھا کہ 21ستمبر سے سکول دوبارہ کھول دیں جائیں گے جس کے لئے قواعد وضوابط بھی وضع کئے گئے ہیں ۔ سرکاری قواعد کے مطابق سکولوں میں 9ویںجماعت سے بارہمویں جماعت تک کے بچے سکول جاسکتے ہیں اور اس کیلئے بچوں پر کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ رضاکارانہ طور پر جو طالب علم سکول جانا چاہیں گے وہ جاسکتے ہیں دیگر غیر حاضر بچوں کو کوئی باز پُرس نہیں ہوگی تاہم جو بچے سکول جائیں گے ان کو سکول میں اُسی وقت جانے کی اجازت ہوگی جب ان کے والدین کی جانب سے ایک مچلکہ پر دستخط ہوں گے جس میں تحریر کیا گیا ہے کہ اگر بچے انفکشن کے شکار ہوں گے تو اس کیلئے سکول زمہ دار نہیں ہوں گے بلکہ طلبہ کے والدین ہی اس کیلئے زمہ دار ہوں گے ۔ مچکلہ میں بتایا گیا ہے کہ اگر طالب علم وائرس کا شکار ہوگا تو ہم اس کیلئے سکولوں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے ۔ اس معاملے پر عوامی حلقوں نے سخت برہمی کااظہار کیا ہے خاص کر والدین نے کہا ہے کہ سرکار اگر سکول کھولنا چاہتی ہے تو کسی ناخشگوار واقعہ کیلئے والدین کو کیوں کر ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کا کہ سرکار اس کیلئے والدین کو ہی ذمہ دار ٹھہراے گی جو سراسر ناانصافی ہے ۔ انہوں نے کا کہا کہ ایک طرف وادی میں کوروناوائرس کا قہر جاری ہے تو اس صورتحال کے بیچ یہ کہاں کی دانشمندی ہے کہ سکول کھول دئے جائیں گے۔یاد رہے کہ مرکزی سرکار نے فیصلہ کیا تھا کہ 21ستمبر سے سکول دوبارہ کھول دئے جائیں گے تاہم بھارت کی کچھ ریاستوں میں سکول فی الحال بند ہی پڑے ہیں جبکہ دلی میں بھی فی الحال سکول بند ہی ہے ۔
Comments are closed.