اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھارت پاک پر دیا زور؛ مسئلہ کشمیر سمیت تمام دوطرفہ معاملات کو آپسی مفاہمت سے حل کریں/گوٹرس
سرینگر/17ستمبر: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھارت اور پاکستان پر ایک بار پھر زور دیا کہ وہ آپسی تنازعات بشمول کشمیر مسئلہ کو آپسی مفاہمت کے ساتھ حل کرنے کی طرف مثبت اپروچ اپنائیں تاکہ خطے میں پھیلی کشیدگی کو دور کیا جسکے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹرس نے بھارت اور پاکستان پر ایک بار پھر زور دیا کہ وہ تمام حل طلب مسائل بشمول مسئلہ کشمیر کو آپنی رضامندی سے حل کریں ۔ انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ مسائل کے حل کیلئے مثبت اپروچ اپنائیں تاکہ خطے میں جو کشیدگی اس وقت پھیلی ہوئی ہے اس کو ختم کیا جاسکے۔ ایک نیوز کانفرنس کے دوران ایک صحافی کی جانب سے سوال اُٹھایا گیا کہ بھارت کشمیر میں ڈیموگریفی تبدیل کررہا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں جو تبدیلی کی اس وقت جو میں نے بیان دیا تھا میں آج بھی اس پر قائم ہوں اور ایک بار پھر دہرانا چاہتا ہوں کہ بھارت اور پاکستان کو تما م آپسی اختلافات کو دور کرکے مفاہمت کی راہ اختیار کرنی چاہئے ۔ ’’گذشتہ سال بھارت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے فورا بعد جاری کردہ بیان میں گٹیرس نے 1972 کے شملہ معاہدے کا حوالہ دیا تھا ، جس میں انہوں نے کہا ،” جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت کو پرامن طریقے سے طے کرنا ہے ، اس کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اقوام متحدہ کا میثاق۔ ’’اس خطے پر اقوام متحدہ کا مؤقف اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کے قابل اطلاق قراردادوں کے تحت ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ میں بالکل اسی طرح کا بیان اس وقت دوں گا جو میں نے گزشتہ سال دیا تھا کہ بھارت اور پاکستا ن کے وزائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور اندراگاندھی نے 1972میں شملہ معاہدے میں طے پایا تھا کہ تیسری پارٹی کی شمولیت کے بغیر دونوں ملکوں کے مابین تنازعات کو دو طرفہ طور پر حل کیا جائے گا۔ کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی مرکزی قرارداد میںحل نکالا جائے گا۔ تو اسی راہ پر چلتے ہوئے دونوں ممالک کو آپسی اختلافات بھلاکر آگے امن و سلامتی کیلئے کام کرنا چاہئے ۔
Comments are closed.