دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پی ڈی پی یوتھ ونگ کی پہلی میٹنگ منعقد
گپکار اعلامیہ پر عمل پیرا،اسی اعلامیہ کے مطابق آئندہ بھی عوام کی ترجمانی کریگے / اعجاز میر
محبوبہ مفتی سمیت تمام نظر بند سیاسی لیڈران و نوجوانوں کو رہا کرکے بات چیت کا عمل شروع کی جائے /وحیدپرہ
سرینگر/16ستمبر/سی این آئی// گزشتہ سا ل جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمہ کے بعد پہلی بار سرینگر میں پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی کے یوتھ ونگ کی میٹنگ پارٹی ہیڈ کواٹر پر منعقد ہوئی جس دوران پارٹی کے یوتھ لیڈران نے کہا کہ وہ گپکار اعلامیہ پر عمل پیرا ہیں اور اسی اعلامیہ کے مطابق وہ آئندہ بھی جموں و کشمیر کی عوام کی ترجمانی کریں گے جبکہ ساتھ ہی پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی سمیت تمام سیاسی لیڈران اور نوجوان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بات چیت کا عمل شروع کرنے پر زور دیا ۔ سی این آئی کے مطابق پانچ اگست 2019کو جموں کشمیر سے دفعہ 370کی منسوخی کے بعد پہلی بار سرینگر میں پی ڈی پی یوتھ ونگ کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی ۔ سرینگر پارٹی ہیڈ کواٹر پر منعقد اس میٹنگ میں عبد الرحمان ویری ، غلام نبی لون ہانجورہ ، خورشید عالم ، اعجاز احمد میر ، وحید الرحمان پرہ کے علاوہ دیگر لیڈران نے شرکت کی ۔ میٹنگ میں موجود صورتحال پر سیر حاصل بحث ہوئی جبکہ جموںکشمیر کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ میٹنگ کے حاشیہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ڈی پی کے سابق ممبر اسمبلی اور یوتھ لیڈر اعجاز میر نے کہا کہ پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی ہنوز نظر بند ہے جس کی وجہ سے پی ڈی پی کارکنان مایوس ہیں۔ انہوں نے کہا جب تک محبوبہ مفتی کو رہا نہیں کیا جاتا تب تک پارٹی کا باضابطہ طور پر سیاسی سرگرمیاں شروع کرنا مشکل ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پارٹی کے رکن نے جموں و کشمیر کا مسئلہ پارلیمان میں پوری ایمانداری کے ساتھ اْٹھایا تاہم تقریباً پانچ سو ممبران میں دو ممبران کی آواز بہت کم معنیٰ رکھتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی گپکار اعلامیہ پر کاربند ہے، اور اسی کے مطابق جموں و کشمیر کا مسئلہ اْٹھائے گے۔اسی دوران پارٹی کے یوتھ صدر وحید الرحمان پرہ نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جموں کشمیر سے نا انصافی کا ایک سال سے زائد عرصہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی سرکار چاہئے چین ہو پاکستان ہو یا دوسرا کوئی ملک ہے ان سے بات چیت کر رہی ہے تاہم جب کشمیر کی بات آتی ہے تو اس کے سو تیلی ماں کا سلوک کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی سمیت تمام نظر بند سیاسی لیڈران اور نوانوں کی رہائی عمل میںلائی جائے جبکہ اس بات پر زور دیا کہ جموں کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے بات چیت کا عمل شروع کیا جائے گا ۔ انہوںنے کہا کہ ہم سرکار سے کہنا چاہتے ہیں کہ اگر آپ چین سے بات کر سکتے ہیں ، پاکستان سے کرتار پور معاملے سے بات کر سکتے ہیں تو کشمیر کے اپنے لوگوں سے بات چیت میںکوئی ہچکچاہٹ ہو رہی ہے ۔
Comments are closed.