لاک ڈاون کے بیچ ادبی انجمنوں کا رول تاریخ ساز ؛ انٹرنیٹ کی مختلف سماجی ویب سائٹس کے ذریعے آن لائن ادبی سرگرمیاں کو جاری میں رول نبھایا
سرینگر /9ستمبر / کے پی ایس : عالمگیر کورونا وائرس کی وجہ سے نافذالعمل لاک ڈاون کے دوران تمام سرگرمیاں معطل ہوئیں ۔عام حالات میں سیاسی ،سماجی ،ادبی یا مذہبی جماعتیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے تاریخی مقامات میںسمیناروں اور تقریبات کا اہتمام کرتے تھے۔لیکن لاک ڈاون کی وجہ سے ان انجمنوں کی تمام سرگرمیاں متاثر ہوئیں ۔سماجی دوریوں کو بنائے رکھنے اور مہلک وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے سرکاری طور سمیناروں اورتقریبات پرپابند ی عائد کی گئی ۔یہاں تک عبادت گاہوں اور خانقاہوں کو مقفل کردیا گیا ۔بازار اور دفاتر مکمل طور بندرہے ۔ اس طرح سے معمولات زندگی اچانک تھم گئی اور لوگ گھروں میں محصور ہوئے ۔جو لوگ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر سماجی،سیاسی اور فلاحی خدمات انجام دے رہے تھے ۔وہ گھروں میں دم بہ خود ہوئے اور اپنے مشن کو آگے بڑھانے سے قاصر رہے ۔تاہم یہ بات کسی سے پوسیدہ نہیں بلکہ ہر ایک کیلئے چشم کشا ہے کہ ادبی انجمنوں کے منتظمین نے اس دور پُرآشوب میں جب ایک دوسرے سے ملنے یا سمینار وتقریبات منعقد کرنے کی اجازت نہیں تھی تو محبان کشمیری واردوزبان وادب تذبذب کے شکار ہوئے تھے کیونکہ ان کو ہمیشہ اپنی تخلیقات منظر عام پر لانے کی تشنگی رہتی ہے ۔اس سلسلے میں کئی ادبی تنظیموں کے سربراہاں اور زعماء نے اس کمی کو شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہوئے ایک نئی راہ ڈھونڈ نکالنے میں کامیابی حاصل کی ۔ انٹرنیٹ کو بروئے کار لاکر مختلف سماجی ویب سائٹس پرآن لائن پروگرام منعقد کرنے کی ٹھان لی ۔وادی میں وسطی کشمیرکی ایک نامور و ممتاز ادبی تنظیم جموں وکشمیر ثقافتی مرکزبڈگام نے اس آن لائن پروگرام کا آغاز کیا اور کشمیر ی زبان وادب کے شاہکاروں و تخلیق کاروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا جبکہ اردو زبان واد ب کے ترویج و ترقی کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے ولر ادبی فورم بانڈی پورہ نے آن لائن پروگرام کاافتتاح کیا ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس طرح آن لائن پروگرام کاتصور(Concept)محقق ڈاکٹر شبنم رفیق نے پیش کیا ۔ اس کے بعد وادی کی مختلفاردو وتنظیموں بشمول جموں وکشمیر اردو کونسل نے آن لائن کے ذریعے مختلف پروگراموں کاا ہتمام کیا جبکہ کشمیر ی زبان کے ادبی انجمنوں بشمول کشمیر مرکز ادب وثقافت چرار شریف ،بزم شعرو ادب سنگرامہ،بزم ادب گلمرگ ،رفیع آباد ادبی مرکز،انجمن صدائے فن راجوار ،دائرہ ادب دلنہ ،کلچرل فورم کپوارہ ،تحریک ادب کشمیر ،انہار وٹس ایپ گروپ ،افروٹ ادبی فورم وانی گام ،گلشن کلچرل فورم کشمیر ،دبستان ادب رفیع آباد ،حلقہ ادب سوناواری ،ہم سخن کلچرل فورم ،نگینہ انٹرنیشنل گروپ ،مراز ادبی سنگم کے علاوہ جموں وکشمیر کلچرل اکیڈمی نے انٹرنیٹ کی سماجی ویب سائٹس کو بروئے کار لاکر محفل مشاعروں ،افسانہ محفلوں اورسماج کے اہم وادبی شخصیات کا تعارف یا خدمات کے حوالے سے محفلیں منعقد کرکے ایک تحریک چلائی گئی ۔اس طرح سے ان ادبی انجمنوں نے وادی کے شعرا ء وادباء کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرکے ان کو اس کٹھن وقت میں بھی اپنی تخلیقات منظر عام پر لانے کیلئے موقعہ فراہم کیا جس سے عام لوگ بالخصوص ادب نواز لوگ محظوظ ہوئے ۔ادبی تنظیموں نے آن لائن کئی تخلیق کاروں اور مصنفیں کی کتابوں اور شعری مجموعوں کی آن لائن رسم اجرائی انجام دیکر ایک نیا تصور پیش کرکے وقت کے زیاں اور تصروفات سے ان کو بچایا گیا ۔ اس دوران کئی اہم شخصیات کو سماجی اورادبی خدمات انجام دینے پر حوصلہ افزائی اسناد بھی فراہم کئے ۔رفیع آباد ادبی مرکز نے
سنگر اسٹیج کشمیر کے اشتراک سے آن لائن پروگرام میں کلیدی رول ادا کرنے والے ڈاکٹر شبنم رفیق ،گلشن بدرنی ،مجید مجازی،حسن اظہر اور اظہار مبشر کو سائٹیشن اور اعزاز سے نوازا ۔جس سے یہ تاریخ رقم ہوئی کہ وادی کشمیر کے ذہین افراد گھر بیٹھے بھی اپنی فنی صلاحیتوں سے ادبی یا سماجی مشن جاری رکھ سکتے ہیں
Comments are closed.