لیتہ پورہ میں سرکار ی چاول بلیک میں فروخت کر نے کا معا ملہ بے بنیاد: انکوئری رپورٹ

راشن کی تقسیم کار ی میں کوئی بھی خرد برد نہیں کیا گیا تھا:اے ڈی فوڈ پلوامہ شیخ عنایت

سرینگر 9ستمبر/سی این ایس/ محکمہ امور صارفین وتقسیم کار ی نے لیتہ پورہ گودام سے سرکار ی چاول بلیک میں فروخت کر نے کے سلسلے میں تشکیل دی گئی انکوئر ی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ دوران تحقیقا ت یہ بات سامنے آ ئی ہے کہ یہ سب بے بنیاد ہے اور اس میں راشن کی تقسیم کاری میں کسی بھی قسم کا خرد برد نہیں کیا گیا تھا۔ سی این ایس کے مطابق چند ایک روزسے یہ خبر آ رہی تھی کہ لیتہ پورہ پلوامہ کے گودام سے91 کوئنٹل چاول غا ئب ہونے کے بعد اسے ترال میں بلیک مارکیٹنگ کے ذریعے فروخت کیا گیا۔ چنانچہ اس بارے میں اصل حقائق جاننے کیلئے محکمہ امور صارفین کے اسسٹنٹ ڈریکٹرپلوامہ کی ہدایت پر ایک آرڈر زیر نمبر20/30/43-46 FCS&CA//PUL/7-09-2020 کے تحت تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی جنہیں دو روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی جو بعد کو موصو ل ہوئی ہے۔اس ضمن میں اسسٹنٹ ڈریکٹر فوڈ اینڈ سپلائز پلوامہ شیخ عنایت نے سی این ایس کو بتایا کہ اس معاملہ کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل ہو ئی ہے جس میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ گودام سے سرکاری چاول غا ئب کرنے کی بات بے بنیاد اور حقیقت سے کوسوں دور تھی۔ انہوں نے یہ سچ ہے کہ اس گاڑی کو پلوامہ جانا تھا لیکن ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے وہ ترال پہنچی جہاں محکمہ کے اسٹور کیپر نے گاڑی میں لوڈ راشن قواعد وضوابط کے تحت تقسیم کی لہذا اسمیں محکمہ کے کسی بھی اہلکار کا ہاتھ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی نیت غلط تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس دانے دانے کا حساب ہوتاہے اور اس میں کسی بھی قسم کا گھوٹالے کی گنجائش نہیں تھی۔ شیخ عنایت اللہ نے کہا ہے کہ محکمہ میں شفافیت لانے اور سرکاری راشن کے خرد برد کو روکنے کیلئے مختلف جگہوں پر جی پی ایس نظام کو متعارف کیا گیا ہے جس سے ٹرکوں کی آواجاہی پر کڑی نگاہ رکھی جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ ریاست میں چاول کو مغلوب غذا کی حیثیت حاصل ہے لہٰذا محکمہ کو ایمانداری اور خلوص نیت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ماتحت افسران اور عملے کو ہدایت دی کہ وہ کسی بھی جگہ راشن کے حوالے سے لوگوں کو شکایت کرنے کا موقعہ نہ دیں.

Comments are closed.