کپواڑہ میں ’’منا بھائی ایم بی بی ایس” کی نئی مثال قائم ;سنیٹری آفیسر کئی ماہ تک جعلی ڈاکٹر بن کر رہا تھا لوگوں کو علاج ،سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا
سرینگر/06ستمبر/سی این آئی// سرحدی ضلع کپواڑہ میں ’’ منا بھائی ایم بی بی ایس‘‘کے طرز پر لوگوں کو علاج معالجہ کرنے والے جعلی ڈاکٹر جو کہ اصل میں سنیٹری آفیسر ہے کو لوگوں نے بے نقاب کرکے اسکو پولیس کے حوالہ کر دیا ۔ سی این آئی کے مطابق ضلع کپواڑہ میں کئی ماہ سے لوگوں کو علاج و معالجہ کرنے والے نقلی ڈاکٹروں کو اتوار کے روز لوگوں نے دبوچ لیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ پامپوش کالونی بڈشاہ نگر سرینگر کا رہائشی پچھلے کئی مہینوں سے بغیر کسی ڈاکٹری ڈگری کے بالی وڈ کی شاہکار فلم ” منا بھائی ایم بی بی ایس” کی طرز پر خود ساختہ ڈاکٹر بن کر کپواڑہ کے ریگی پورہ میں ایک نجی کلینک پر لوگوں کا علاج و معالجہ کر رہا تھا۔ پولیس کے ایک سنیئر افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مقصود احمد خان ولد غلام محمد خان نامی شخص جو اس کہ اس وقت سرینگر کے برزلہ اسپتال میں تعینات ہے نے کپواڑہ میں نجی کلنک کھول دیا تھا اور لوگوں کو علاج معالجہ کر رہا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ آفیسر نے وہاں ایک دکان پر بورڈ بھی لگایا تھا جس پر انہوںنے خود کو ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے نام سے مشہور کیا تھا تاہم آج اس کی اصلیت سامنے آئی ہے جس کے بعد اسکو لوگوں نے دبوچ کر پولیس کے حوالہ کر دیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس سٹیشن کپواڑہ میں ایف آئی آر نمبر 225/2020 انڈر / 420 ، 486 ، 471 آئی پی سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
Comments are closed.