چار سال کے طویل وقفے کے بعد پٹن میں حزب سے وابستہ تین جنگجو جاں بحق / ڈی آئی جی شمالی کشمیر

حزب شمالی کشمیر میں سرگرم ہونے کی کوشش کررہی ہے لیکن کامیاب نہیں ہونگے

جنگجوئوں کو خود سپردگی کا موقعہ دینے کے دوران میجر زخمی ہوا ، شمالی کشمیر میں عسکریت کے تئیں نوجوان کا رجحان کم / فوجی کمانڈر

سرینگر/05ستمبر: چار سال کے طویل وقفے کے بعد شمالی قصبہ پٹن میں حزب سے وابستہ تین جنگجو جاں بحق ہو گئے کی بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی شمالی کشمیر نے کہا کہ حزب المجاہدین شمالی کشمیر میں سرگرم ہونے کی کوشش کررہی ہے لیکن ہم اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ ادھر فوجی کمانڈر کا کہنا تھا کہ جھڑپ میں جنگجوئوں کو خود سپردگی کی اپیل کے دوران فوجی میجر گولی لگنے سے زخمی ہو گیا ۔ سی این آئی کے مطابق یدی پورہ پٹن جھڑپ میں تین جنگجوئوں کی ہلاکت کے بعد فوج و دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ہمراہ حیدر بگ پٹن میں ایک مشتر کہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی شمالی کشمیر سلیمان چودھری نے بتایا کہ یدی پورہ پٹن میں فورسز کے ساتھ معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق تین جنگجوئوں کا تعلق حزب المجاہدین سے تھا۔انہوں نے کہا کہ ضلع بارہمولہ میں چار سال بعد حزب جنگجوئوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔انہوں نے یدی پورہ پٹن میں جاں بحق تین میں سے دو جنگجوئوں کی شناخت شفقت علی ساکن راوت پورہ دلنہ اور حنان بلال صوفی ساکن اولڈ ٹاون بارہمولہ کے طور کی۔ڈی آئی جی شمالی کشمیر نے کہا’’ایسا لگتا ہے کہ حزب المجاہدین شمالی کشمیر میں سرگرم ہونے کی کوشش کررہی ہے لیکن ہم اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘‘۔آپریشن کی تفاصیل فراہم کرتے ہوئے سلیمان چودھری نے کہا’’ جنگجو جس رہائشی مکان میں چھپے تھے وہاں بچے سمیت12شہری بھی موجود تھے جنہیں جنگجوئوں نے یرغمال بنایا تاہم پولیس و سیکورٹی فورسز نے پہلے عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا یا جس کے بعد ہی جنگجوئوں کے خلاف کارورائی شروع کر دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ حزب کے تمام منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے فوج و فورسز اور پولیس متحرک ہے اور کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ اس موقعہ پر 20سیکٹر آر آر کے کمانڈر برگیڈر این کے مشرا نے بتایا کہ جنگجوئوں کو خود سپردگی کا بھر پور موقعہ فراہم کیا گیا تاہم انہوں نے مسترد کرتے ہوئے فورسز پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں فوج کا ایک میجر اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کافی لمبا آپریشن تھا جس دوران عام شہریوں کوبھی یر غمال بنایا تھا تاہم ان کو صیح سلامت باہر نکالنے کے بعد ہی فوج نے فیصلہ کن کارروائی کی ۔ مقامی نوجوانوں کی جانب سے عسکری صفوں میں شمولیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شمالی کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی جانب سے عسکری صفوں میں شمولیت کے رجحان میں کافی کمی ریکارڈ کی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2018میں 38مقامی نوجوانوں نے عسکری صفوں میں شمولیت کی تھی جبکہ سال 2019میں صرف 19مقامی نوجوان عسکری صفوں میں شامل ہوئے اور امسال تعداد اس سے بھی کافی کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی مدد سے ہم عسکری صفوں میں شامل ہونے والے نوجوان کو واپس لانے میں بھی کافی کامیاب ہو ئے ۔

Comments are closed.