بھارت اور چین کے مابین سرحدی تنازعے میں ثالثی پر خوشی ہو گی /ٹرمپ
دونوں ممالک توقعات سے بھی زیادہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں
سرینگر/05ستمبر: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مغربی ہمالیہ کی سرحد پر ہندوستان اور چین کے درمیان تنازع حل کرنے میں مدد کرنے پر امریکہ کو خوشی ہو گی۔ ٹرمپ ماضی میں بھی دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان ثالثی کرانے کی پیش کش کر چکے ہیں۔ چین نے کہا ہے کہ ثالثی کے لیے کسی تیسرے فریق کی ضرورت نہیں ہے جب کہ ہندوستان نے بھی اس پیش کش پر گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا تھا۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ متنازع سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان صورت حال انتہائی کشیدہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اور چین توقعات سے بھی زیادہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔گزشتہ شب ماسکو میں ہندوستان اور چین کے وزرائے دفاع کے درمیان بات چیت ہوئی جو جون میں متنازع پہاڑی سرحد پر خونریز تصادم بھڑک اٹھنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر پہلا سیاسی رابطہ ہے۔امریکی سرکاری ذرائع نے بتایا کہ واشنگٹن کا خیال ہے کہ چین اور نہ ہی ہندوستان اس تنازع کو اس مقام پر لے جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جہاں یہ بات باقاعدہ جنگ تک پہنچ جائے۔ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران اس تنازع کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن دونوں ممالک کے ساتھ بات کر رہا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے میں کیا مدد کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا: ’ہم چین اورہندوستان کو اس (کشیدہ صورت حال) سے نکلنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔ اگر ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں تو ہمیں اس میں شامل ہونے اور مدد کرنے میں خوشی ہو گی۔‘ٹرمپ ماضی میں بھی دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان ثالثی کرانے کی پیش کش کر چکے ہیں۔ چین نے کہا ہے کہ ثالثی کے لیے کسی تیسرے فریق کی ضرورت نہیں ہے جب کہ ہندوستان نے بھی اس پیش کش پر گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا تھا۔ادھر ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے موقع پر چین اور ہندوستان کے وزرائے دفاع نے ملاقات کی۔چینی سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ کے مطابق ماہرین نے بتایا کہ یہ ملاقات دونوں فریقوں کے لیے موجودہ تناؤ کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کرنے اور ’غلط فہمیوں‘ کی وجہ سے زیادہ شدید محاذ آرائی سے بچنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔1962 میں سرحدی تنازعے پر جنگ لڑنے والی ان دو ایٹمی طاقتوں نے ایک دوسرے پر ہفتے کی شب اور پھر پیر کو لداخ کی متنازع سرحد عبور کرنے کا الزام لگایا تھا۔
Comments are closed.