سرینگر /4ستمبر / کے پی ایس: وسطی ضلع گاندربل کے تولہ مولہ علاقہ میں قائم پرائمری ہیلتھ سنٹر میں طبی عملہ کی کمی ہے جس کے نتیجے میںمریضوں کو علاج و معالجہ کرنے میں بہت ساری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں مقامی لوگوں نے کشمیر پریس سروس کے نمائندے ریاض بٹ کے ساتھ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ علاقہ میں آبادی کا تناسب کافی ہے اور اس علاقہ میں قائم پرائمری ہیلتھ سنٹر سے درجنوں دیہات کے لوگ منسلک ہیں لیکن اسپتال ہذا میں طبی ونیم طبی عملہ کی کمی کی وجہ سے مریضوں کا خاطر خواہ علاج نہیں ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے مریض دوسرے اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے کہا کہ غریب اور سفیدپوش مریضوں کے پاس دور اسپتال جانے کیلئے کرایہ نہیں ہوتا ہے جس سے وہ علاج ومعالجہ سے قاصر رہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقہ میں قائم اسپتال کو جدید سہولیات سے لیس رکھنا اور طبی عملہ کی کمی کو دور کرنا انتظامیہ کی خاصی ذمہ داری ہے کیونکہ اسپتال کے ساتھ لوگوں کی زندگیاں جڑی ہوئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں نے متعدد بار محکمہ صحت کے متعلقہ افسران کی نوٹس اس سنجیدہ نوعیت کے معالے کو لایا اور ان سے استدعا کی گئی مذکورہ پرائمری ہیلتھ سنٹر میں طبی ونیم طبی عملہ کی تعیناتی کو یقینی بناکر اسپتا ل کو مریضوں کی سہولیات کیلئے 24گھنٹے کھلارکھا جائے اورجدید ٹیکنالوجی و مشینری بشمول الٹرا سانومشین نصب کریں تاکہ مذکورہ علاقہ اور دیگر ملحقہ علاقاجات کے لوگوں کو دوسرے اسپتالوں کا رخ نہ کرنے پڑے گا ۔تاہم کافی یقین دہانیوں کے باوجود بھی کوئی خاطر خواہاقدام نہیں اٹھائے گئے ۔اس سلسلے میں انہوں نے گورنر انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ پرائمری ہیلتھ سنٹر کی طرف توجہ دی جائے تاکہ لوگوں کے مشکلات کاازالہ ہوسکے ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.