سرینگر /4ستمبر /کے پی ایس : قصبہ سوپور میں نقب زنی کی واردات پیش آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دکان کی نقب زنی اور تین دکانات کے تالے توڑنے کی کوشش ناکام ہوئی ۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق 3اور 4ستمبر کی درمیانی رات کو نقب زنوں نے مین چوک سوپور میں نقب لگاکر لاکھوں روپے مالیت کا ہوزری سامان اڑا لیا ۔بتایا جاتا ہے کہ نقب زنوں نے محمد اقبال راتھر کے ہوزری دکان میں نقب لگاکر سامان اڑالیا ہے جبکہ جان محمد میر ،فیاض احمد شالہ اور غلام نبی کنہ کے دکانات کے تالے توڑنے کی ناکام کوشش کی ہے ۔نقب زنی کی اس واردات کے بعد قصبہ میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔معاملہ کی تصدیق کرتے ہوئے ایس ایچ سوپور اعظم خان نے بتایا کہ ایک دکان کی چوری ہوئی ہے جبکہ تین دکانوں کے تالے توڑنے کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے کشمیر پریس سروس کو بتایا کہ پولیس نے جائے واردات پر جاکر نقصان کا جائزہ لیا اور ایف آئی آرزیر نمبر 245/2020کے تحت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ۔ٹریڈریس فیڈریشن سوپور کے عہدیداروں کا ایک وفد بشمول نائب صدر محمد شفیع چنگال اور مسعود احمد مرچال جائے واردات پر گئے اور متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔اس سلسلے میںمحمد شفیع نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ سوپور میں آئے روز چوری کی وارداتیں پیش آتی رہتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج کی اس واردات میں جسمانی طور ناخیز دکاندارمحمد اقبال راتھر کے دکان میں نقب لگاکر لاکھوں روپے مالیت کا سامان اڑالیاہے جبکہ مزید تین دکانوں کو لوٹنے کی کوشش کی ہے تاہم اس میں ناکام ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان وارداتوں سے قصبہ کے تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے کیونکہ ان کا مال وجان عدم تحفظ کا شکار ہے ۔انہوں نے کہا کہ چوری کی اس واردات سے صرف ایک دن قبل فیڈریشن کی وفدنے قاضی حشمت اللہ ہاشمی کی قیادت میں ایس پی سوپور جاوید اقبال سے ایس ایچ او عاظم خان کی موجودگی میں ملاقات کی ۔وفد میں فیڈریشن کے سرپرست اعلیٰ حاجی عنایت اللہ حاجنی ،حاجی جاوید احمدبٹ اور محمد شفیع چنگال شامل تھے ۔ اس ملاقات کے دوران وفد نے قصبہ کے چند اہم مسائل ابھارے ۔انہوں نے کہا کہ قصبہ میں منشیات کے بڑھتے رجحان ،نقب زنی کے جاری سلسلہ اور دکانداروں پر مالکان دکانات کی جانب سے ناانصافی کے حوالے سے بات کی ۔ان کے بقول موصوف نے منشیات کے انسداد اور نئی پود کو اس سے دور رکھنے کیلئے سرگرمیاں تیز کرنے کی یقین دہانی کی ۔ایس پی موصوف نے وفد کو نقب زنی کے واردات کو روکنے کی کوششیں جاری رکھنے کا بھی یقین دلایا ۔محمد شفیع کے بقول دکانداروں کوبے دخل کرنے کی پالیسی پر ایس پی موصوف نے فیڈریشن کو تعاون فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کے تعاون سے وہ کسی بھی صورت لاقانونیت کا موقعہ مالکان دکانات کو فراہم نہیں کریں گے اور دکانداروں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی ناانصافی نہیں ہوگی ۔انہوں نے حیرانگی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیڈریشن ملاقات کے کئی گھنٹوں بعد چوری کی وارداتیں پیش آئیں ۔اس طرح سے دونوں پہلوئوں کو مد نظر رکھ کر پولیس کو باریک بینی سے تحقیقات عمل میں لانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ چوری ہوئے دکان میں سی سی کیمرہ نصب تھا لیکن نقب زنی سے پہلے نقب زنوں اس کوہی بے کار کردیا ہے جبکہ اس کے متصل سٹیٹ بنک کے سی سی کیمرے کو بروئے کار لاکر فاسٹ ٹریک بنیادوں پر نقب زنوں کا پردہ فاش کرنے کی ضرورت ہے ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.