پب جی گیم پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ؛وادی کے کھلاڑیوں میں مایوسی ، والدین کااظہار اطمینان
سرینگر/03ستمبر: دنیا میں سب سے زیادہ آن لائن کھیلنے والا کھیل’’PUBG‘‘پر پابندی لگانے سے اگرچہ وادی کشمیر کے پب جی کھیلنے والے مایوس ہوچکے ہیں تاہم والدین نے اس سلسلے میں راحت کی سانس لی ہے ۔ پب جی سمیت 117موبائل اپس پر بھارت نے نئے سرے سے پابندی لگائی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ دن بھر میں پب جی کے 50ملین آن لائن کھلاڑی تھے جبکہ پب جی اپ 600ملین سے زائد ڈاون لوڈ ہوچکی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق چینی فوج کی جانب سے پنگونگ لداخ میں جارحیت کے بعد بھارت نے مزیدی چینی اپس پر پابندی عائد کی ہے ۔ بدھ کے روز وزارت مواصلات و ٹیلی کام کی جانب سے جاری کردہ تازہ حکمنامے کے مطابق بھارت میں پب جی اپ سمیت دیگر 117چینی اپس پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔ PUBGپر پابندی سے اگرچہ بھارت بھر کے علاوہ وادی کشمیر میں بھی پب جی کھیلنے والے افراد مایوس ہوئے ہیں تاہم والدین نے سرکار کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پب جی سے ہمارے بچے تعلیم محروم ہوگئے ہیں جبکہ وہ پب جی کھیلنے کے سوا کوئی کام نہیں کررہے ہیں ۔ والدین کے مطابق بچے دن رات پب جی کھیلنے میں مصروف رہتے تھے جس کی وجہ سے ان کے دماغ پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پب جی سے بچوں کے مزاج میں بھی چڑ چڑا پن دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ بات بات پر غصہ کرتے ہیں ۔ یہ بات قابل ذکر ہے وادی کشمیرمیں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی پب جی کھیلنے میں مصروف رہتے تھے ۔ادھر سرکار نے بتایا کہ ہے کہ جن چینی اپس پر پابندی لگائی گئی ہے ان کا متبادل تلاش کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ موجودہ دور میں موبائل ایک اہم ضرورت بن گئی ہے ۔ تاہم پب جی پر کا متبادل نکالنے کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں ہے کیوں کہ پب جی پر پابندی لگانے کا عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا جس کو پورا کرنے کا موقع اب ملا ۔
Comments are closed.