دفعہ 370کی منسوخی کے بعد پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی کی میٹنگ ناکام

انتظامیہ نے کئی لیڈران کو گھر وں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی

سرینگر/03ستمبر/سی این آئی// جمو ں کشمیر کے تنظیم نو کے بعد پہلی مرتبہ انتظامیہ نے جمعرات کو کئی پی ڈی پی لیڈران کو میٹنگ میں شامل ہونے سے روک دیا اور انہیں گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ سی این آئی کو معلوم ہوا ہے کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سرینگر ہیڈاکواٹر پر جمعرات کو ایک میٹنگ بلائی تھی جس میںکئی اہم پارٹی امورزیر بحث لانے کیلئے کا پروگرام رکھا تھاجبکہ ساتھ ہی پارٹی صدر محبوبہ مفتی کی مسلسل حراست کے بارے میں بھی غور کیا جانا تھا تاہم کئی لیڈران نے پولیس نے میٹنگ میں شرکت کرنے سے روک دیا اور انہیں گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ جن لیڈران کو میٹنگ میں شامل ہونے سے روک دیا گیا ان میںغلام نبی لون ہانجورہ ، عبدالرحمان ویری ، نعیم اختر ، اعجاز احمد میر ،خورشید عالم ، وحید الرحمان پرہ اور محمد یوسف بٹ قابل ذکر ہے ۔ تاہم کچھ پارٹی لیڈران جن میں ترجمان سہیل بخاری ، فیاض احمد میر ، سفینہ بیگ اور دیگر کارکنان شامل ہے کو پی ڈی پی ہیڈکواٹر میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ۔ میٹنگ میں شرکت کرنے سے روک دینے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ۔پارٹی کے سینئر لیڈر نعیم اختر نے سوشل میڈیا پرایک ویڈیو شیئر کی جس میں اْنہیں پولیس کی طرف سے با ضابطہ روکا جارہا ہے۔اختر نے ایک ٹویٹ میں کہا’’ بظاہر پی ڈی پی لیڈرشپ آزاد ہے ،کاغذات میں بھی یہی لکھا ہے اور حکومت بھی یہی کہتی ہے، لیکن لیڈرشپ غیر قانونی حراست میں ہے اور اس کیلئے کوئی سرکاری آرڈر بھی موجود نہیں ہے۔مجھے اور میرے ساتھیوں کو آج پی ڈی پی کی میٹنگ میں شرکت سے روکا گیا۔اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سابق ممبر اسمبلی وچی اعجاز احمد میر نے بھی گھر سے باہر آنے کی کوشش کی تاہم انہیں گیٹ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ملی ۔ ایک اور ویڈیو محبوبہ کے ٹویٹر اکاونٹ سے بھی شیئر کیا گیا۔یہ غلام نبی لون ہانجورہ سے متعلق تھا جنہیں میٹنگ میں شرکت سے روکا گیا تھا۔

Comments are closed.