بزرگوں ،بیوائوں اور جسمانی طور ناخیز افرادکی حالت باعث تشویش
مہنگائی کے دور میںایک ہزار روپیہ مشاہرہ نہ ہونے کے برابر ،دیہی علاقوں کے مستحق لوگ اس سے بھی ناآشنا
محکمہ سماجی بہبود میں دفتری طوالت مستحقین کیلئے باعث عذاب ،جانکاری کیلئے دیہی علاقوں میںکیمپ منعقد کرنے کی ضرورت
سرینگر /یکم ستمبر/کے پی ایس :بزرگوں ،بیوائوں اور جسمانی طور ناخیز افرادسماج کے حساس لوگوں کیلئے چیلنج ہوتے ہیں جبکہ ان کی بازآبادکاری سرکارکی ذمہ داری ہوتی ہے ۔لیکن زمینی سطح پر اس کے بالکل برعکس حالات ہیں ۔یہاں سرکاری طور ناتوان افراد ،بیوائوں یا بزرگوں کو ایک ہزار روپے بطور ماہانہ مشاعرہ دیاجاتا ہے ۔اس مہنگائی کے دور میں ایک ہزار روپے سے حسب معمول ان کی دوائیوں کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوسکے گا ۔جن کنبوں میں افلاس اور غربت ہوتی ہے ان کنبوں میں بزرگوں،بیوائوں اورناتوان افراد کی پرورش نہ ہوپاتی ہے اور امیر گھرانوںمیں کمانے والے افراد خانہ ان کو اپنے لئے بوجھ تصور کرتے ہیں ۔حالانکہ ان کی دیکھ بال کرنا صحت مند افراد کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔یہاںیہ بات غور طلب ہے کہ مشاہرے بھی انہی لوگوں کو ملتی ہے جن کو اس بارے میں جانکاری حاصل ہوتی ہے ۔جبکہ دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر جسمانی طور ناخیز افراد اور غریب عوام کو اس حوالے سے کوئی جانکاری فراہم نہیں ہوتی ہے ۔اگر کسی کو اس بارے میں معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں اور وہ اپنا نام سوشل ویلفیئر دفتر میں درج بھی کراتے ہیں لیکن دفتری طوالت اور کرایہ میں آئے روز اضافہ سے ان کیلئے وہ فضول مشق ثابت ہوتی ہے ۔کیونکہ کرایہ یا ددفتری لوازمات پورا کرنے پر ان کو ماہانہ مشاعرے سے زیادہ خرچہ آتا ہے یا ان کو بنکوں کے احاطے میں قطاروں میں بیٹھ کر دن کئی دن گذارے پڑتے ہیں ۔ان دشواریوں کا سامنا کرنے کے بعد وہ کئی مہینوں کے مشاعرے حاصل کرسکتے ہیں ۔مجموعی طوناتوانوں اور غریب لوگوں کیلئے یہ مشاہرے بھی باعث عذاب ہی ثابت ہوتے ہیں ۔اس سلسلے میں ضلع بارہمولہ کے دورافتادہ گائوں حمام مرکوٹ فیع آباد کے نمبردار نور محمد نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا گائوں ہر اعتبار سے پسماندہ ہے اورغریب لوگ رہائش پذیر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے ایک ہزار روپیہ جو بزرگوں ،بیوائوں اور ناتوان افراد کو بطور ماہانہ مشاہرہ ملتا ہے وہ اس مہنگائی کے زمانے میںنہ ہونے کے برابر ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں بہت ایسے مستحق لوگ ہیں جن کے فارم دفتر میں ڈالے بھی گئے ہیں لیکن دفتری لوازمات پورا کرنے میں ان بے بس لوگوں کو کافی طوالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ بہت سی مستحق بیوائیں اور بزرگ اس مشاہرے سے محروم ہیں کیونکہ وہ دفتروں کا چکر کاٹنے کی ہمت نہیں رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک ہزارروپیہ حاصل کرنے کیلئے دو سو روپیہ کرایہ پر خرچ کرنا پڑتا ہے اورآٹھ سو روپیہ میں وہ اپنی دوائی بھی نہیں لاسکتے ہیں ۔ادھر نمبردارکنگروسہ محمد اسلم لون نے کے پی ایس کو بتایا کہ آج کے اس دور میں ان کمزور طبقوں کو سرکاری طور ایک ہزار روپیہ فراہم کرنا ناکافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں بنکوں کی سہولیات میسر نہیں ہے اور ان کو کئی کلومیٹر طے کرنے پڑتے ہیں جس پر آدھے پیسے کرایہ پر ہی خرچ ہوتے ہیں اور وہاں قطاروں میں بیٹھ کر کافی دشواریوں کا سامنا کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بیشتر لوگ اس حوالے سے ااج بھی بے خبرہیں ۔انہوں نے کہا کہ سرکار کو ان کے مشاہرے میں غیر معمولی اضافہ کرنا چاہئے اور محکمہ سماجی بہبود کے متعلقہ افسران کو چاہئے کہ وہ دور دراز علاقوں کو میں اس کے بارے میں جانکاری کیمپ منعقد کریں اورماہانہ مشاعرے ان کے گھروں تک پہنچانے کی کوئی سبیل بنائیں تاکہ ان کو اس حوالے مشکلات کاسامنا نہ کرنا پڑے۔
Comments are closed.