سرینگر /یکم ستمبر/کے پی ایس : وسطی ضلع گاندربل کے کنگن ننہامہ،یچہامہ،اکہال،اور دیگر ملحقہ علاقاجات کے لوگ آج بھی اس جدید دور میں طبی سہولیات سے محروم ہے جبکہ ان کو علاج و معالجہ کرنے کیلئے دوسرے گاؤں تک کم سے کم بیس کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔اطلاعات کے مطابق ننہامہ، یچہامہ،اور دیگر علاقہ جات جو نالہ سندھ کے اس پار واقع ہیں۔ان علاقوں میں گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے پْل بھی قائم نہیں ہے جس کی وجہ سے یہاں کے بیمار بچے بزرگ، حاملہ خواتین کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ طبی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے درد زہ میں مبتلا خاتون اور ایمرجنسی مریض موت کے آغوش میں چلے جاتے ہیں ۔اس سلسلے میںمقامی لوگوں نے متعدد بار اس سنجیدہ نوعیت کے معاملہ کو متعلقہ محکمہ جات کی نوٹس میں لایا کہ اس علاقے میں ڈسپنسری یا پرائمری ہیلتھ سنٹر قائم کیا جائے تاکہ یہاں کے مریضوں کا طبی معائنہ کیا جائے گا تاہم تاایں دم کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس علاقے میں کسی کو انجکشن کرنا ہوتا ہے تو اس کو پاس کے گاؤں تک جانا پڑتا ہے اگر وہاں پر روایتی شخص جو انجکشن کرنے کی مہارت رکھتا ہے ۔موجود نہیں ہوگا تو اس صورت میں مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ کافی پسماندہ ہے اور یہاں کے لوگ محنت مزدوری پر ہی اپنی زندگی بسر کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ علاقہ میں کوئی میڈیکل دکان بھی موجود نہیں ہے جس کے نتیجے میں عام لوگوںکو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگوں نے اس ضمن میں گورنر انظامیہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کہ وہ اس علاقے میں ایک ڈسپنسری قائم کرنے کے احکامات صادر کرے تاکہ یہاں کے لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.