کالجوں میں تدریسی عمل کے ساتھ ساتھ غیرتدریسی عمل بھی مفقود ;باغ دلاور خان کالج کاقیام برائے نام ،طلبہ کے داخلہ کاسلسلہ بند

سرینگر ، کے پی ایس : گذشتہ دو دہائیوں سے اعلیٰ تعلیم کیلئے شہرودیہات میں بہت سے نئے کالج قائم کئے جن میں اکثر کالج سیاسی اثرورسوخ کی بنا پر قائم کئے گئے ہیں لیکن یا تو ان کالجوں میں طالب علموں کیلئے سہولیات موجود نہیں ہیں یا طلبہ کی کمی کی وجہ سے ایک اعلیٰ ادارے کامعیار کافی متاثر ہے ۔سرکاری طور اس اہم معاملے کی طرف توجہ مرکوز نہیں ہورہی ہے جس کے نتیجے میں مذکورہ کالجوں کا وجود ہی بے مقصد ہے ۔موصولہ تفصیلات کے مطابق شہر سرینگر کے ڈاون ٹاون میں قائم باغ دلاورخان کالج جو گاندھی کالج کے عقب میں صرفسیاسی اثر ورسوخ کی بنیاد پر قائم کیا ہوا ہے برائے نام ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ شہرسرینگر کے حید رپورہ ،عیدگاہ اورآلوچی باغ کے علاقوں میں مزید تین کالج قائم کئے گئے ہیں لیکن کئی برسوں سے قائم مذکورہ کالج ہراعتبار سے پیچھے ہے اورمجموعی طوراس کا قیام بے بنیاد اوربے مقصد ہے کیونکہ اس کالج میں گذشتہ سال کئی شعبوں میں صرف 18ہی طالب علم زیرتعلیم تھے اورکالج میں سہولیات میسرنہ ہونے کی صورت میں ان طالب علموں کو گاندھی کالج میں داخل کیا گیا تھا ۔ذرائع کے مطابق مذکورہ کالج کے انتظامیہ نے سال 2020کے اوائل میں داخلہ کیلئے کوئی نوٹس جاری نہیں کی ہے اور نہ ہی اس کے متبادل کیلئے کوئی اشتہار یا نوٹس شائع کی گئی ہے ۔بتایا جاتا ہے کالج ہذا میں غیر تدریسی عملہ کے 4اوردوگیزٹیڈ سطح کے افسران تعینات ہیں جن میںایک چیف لائبریرین اور فیزیکل ٹیچر شامل ہیں ۔بتایا جاتاہے کہ مذکورہ کالج کی نگرانی ایس پی کالج کے ذمہ رکھی گئی ہے ۔کے پی ایس نمائندے نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد مذکورہ کا لج کا معائنہ کیا تو وہاں کالج مکمل طوربند پایا ۔ سرکاری احکامات کے مطابق کالجوں یااسکولوں میں تدریسی کام کاج معطل ہے لیکن کالجوں میں دفتری کام کیلئے غیر تدریسی عملہ باضابطہ طور اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں لیکن باغ دلاورخان کالج اس حوالے سے بھی نظرانداز کیا گیا ہے ۔ا س سلسلے میں کشمیر پریس سروس نے ڈایریکٹرکالجز ڈاکٹر محمد یاسین سے بات کی تو موصوف نے خندہ پیشانی جواب دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ کالجوں میں درس وتدریس کاکام معطل ہے البتہ دفتری کام ہر کالج میں حسب معمول چل رہا ہے ۔انہوں نے باغ دلاورخان کالج کے حوالے سے کہا کہ مذکورہ کالج میں طالب علم داخلہ نہیں لے رہے ہیں جس کے نتیجے میں مذکورہ کالج مناسب انداز میں نہیں چل پارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کالج میں چند افسران موجود ہیں جو لائبریری و دیگرشعبوں پر نظرگذررکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کالج میں طلبہ کے داخلے سے ہی تدریسی وغیرتدریسی عمل بہ حسن خوبی انجام دی جارہی ہے اس میں کوتاہیاں برتنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہیں ۔

Comments are closed.