کشمیر میں بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے محکمہ پی ڈی ڈی غیر سنجیدہ
کروڑوں روپیہ کے ٹینڈر کمپنیوں کو اجرا کرنے بعد کمپنیاں ایک سال کام کرنے کے بعد ہوجاتی ہے غائب
مقامی ٹھکیہ داروں اور کروڑوں روپیہ کے سامان کا کوئی پرسان حال نہیں
سرینگر/ 27اگست /کے پی ایس : جہاں ایک طرف سرکار بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے بڑے دعوے کرتی ہے وہیں جبکہ محکمہ پی ڈی ڈی اس نظام کو بہتر بنانے کیلئے زمینی سطح پر پوری طرح ناکام ہوچکی ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ متعلقہ محکمہ نے بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے کروڑوں روپیہ کے ٹینڈر اجرا کئے گئے ہیں اور یہ ٹینڈر باہر کی کمپنیوں کو دئے جاتے ہیں اورمذکورہ کمپنیاں مقامی کنٹریکٹروں کو کام کرنے ٹھیکے فراہم کرتی ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد یہ کمپنیاں متعلقہ محکمہ کے ساتھ ساز باز کر کے ایک تو کام چھوڑ کر بھاگ جاتی ہیں اور دوسری طرف یہاں کے کنٹریکٹروں کا پیسہ بھی ہڑپ کرتی ہیں اورمتعلقہ ٹھیکہ داروں نے کروڑوں روپیہ کا سامان قرضہ پر حاصل کیا ہوتا ہے لیکن اس کے بعد ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔اطلاعات کے مطابق ای ایم سی نامی کمپنی پچھلے دو سال سے غائب ہے اور کروڑوں روپیہ کا سامان ایسے ہی سڑکوں پر پڑا ہے جس کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور ساتھ ہی یہاں کے کنٹریکٹروں کا بھی پیسہ ہڑپ کیا جو اس وقت کسم پرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں ایک مقامی کنٹریکٹر نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ای ایم سی نامی کمپنی کی وجہ سے میں خود کشی کرنے پر مجبور ہوگیا ہوں کیونکہ ایک تو میں نے بینک سے قرضہ لیا اور دوسرے اور مزدور میرے گھر آکے مجھے پیسے مانگتے ہیں اور جب ہم اس بات کو متعلقہ محکمہ کی نوٹس میں لاتے ہیں تو وہاں سے ہم صرف مایوسی کی حالت میں واپس لوٹتے ہیں یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آج بھی کئی اضلاع میں سوبھاگیہ اسکیم سے وابستہ ٹھکیداروں نے اپنے بقایاجات کی واگزاری کیلئے متعلقہ محکمہ کے خلاف احتجاج کیا کہ پچھلے ایک سال سے ان کے پیسے ابھی تک ان کو واگزار نہیں کئے گئے یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر سرکار واقعی بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ ہے تو وہ متعلقہ محکمہ کو کیوں نہیں جواب دہ بناتی ہے کہ کروڑوں روپیہ کا سامان کہا گیا کیوں یہاں کے کنٹریکٹروں کا پیسہ نہیں دیا جاتا اور ایسا لگتا ہے یہ متعلقہ محکمہ اور کمپنیوں کی ملی بھگت ہے جس کی سبب سالوں سال یہ نظام ٹھیک نہیں ہوگا۔
Comments are closed.