سرینگر /27اگست /کے پی ایس :ضلع بارہمولہ کے جلشری علاقہ میں اس وقت سراسیمگی پھیل گئی جب ایک جنازہ کو لے جاتے ہوئے درخت گر آنے سے ایک اور شخص کی موت واقع ہوئی ۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو دن کے11 بجے ایک بزرگ حاجی محمد سلطان ڈار اپنے آبائی گھرمیں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے اور حسب روایت تین بجے مرحوم کی میت جنازہ گاہ کی طرف لی جارہی تھی اس دوران محکمہ سوشل فارسٹ کی نرسری کے نزدیک پہنچتے ہی ایک درخت اچانک گر آیا جس کی زد میں ولی محمد لون ولد عبدالسلام لون ساکنہ جلشر ی بارہمولہ آکر موقع پر ہی دم توڑ بیٹھا بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص سفید پوش اور غریب تھا جو محنت و مزدوری کرکے بڑی مشکل سے اپنے اہل و عیال کا پرورش کرتا تھا بتایا جاتا ہے کہ چھ بچوں کا باپ ولی محمد اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایک ٹین شیڈ میں رہائش پذیر تھا ۔ سرکاری سطح پر غریبوں کی رہائش کے لئے رائج شدہ اسکیم AAYسے بھی محروم تھا اس سلسلے میں جلشری کے سرپنچ سید سمیر گیلانی نے کشمیر پریس سروس کے نمائندے مجید شیری کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اسطر ح کا دلدوز حادثہ پیش آنے کے بنیادی وجوہات محکمہ سوشل فارسٹری کے آفسران و ملازمین کی غفلت شعاری پر عدم توجہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ شخص جو درخت کی زد میں آکر لقمہ اجل بن گیا انتہا درجے کا غریب شخص تھا اور متعلقہ افسران کے ساتھ روابط قائم کرنے کے بھی مذکورہ کو اے اے وائی سکیم کے تحت لانے میں کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں مذکورہ فوت شدہ شخص کسمپرسی میں ٹین شیڈ میں زندگی بسر کررہا تھا انہوں نے کہا کہ اجل برحق ہے تاہم محکمہ سوشل فارسٹ کے افسران کی لاپرواہی اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ نرسری میں موجود بوسیدہ درختاں کی کٹائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے ۔ مقامی لوگوں نے نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ شخص جو غریب تھا کا کوئی پرسان حال نہیں تھا انہوں نے کہا کہ جنازہ گاہ تک جانے والی سڑک کے ہوتے ہوئے پسینجر شیڈ اور سکول موجود ہے اور اس سے لوگوں کا عبور و مرور زیادہ تر رہتا ہے لیکن بجلی کی 33ہزار میگاواٹ کی ترسیلی لائن اسی راستے سے گزر رہی ہے جس سے ہر وقت حادثہ پیش آنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے انہوںنے کہا کہ اگر چہ لوگوں نے کئی مرتبہ محکمہ پی ڈی ڈی کے افسران کی نوٹس میں معاملہ لاکر ان کو مذکورہ ترسیلی لائن کو نصب کرنے کے لئے متبادل انتظام کا مطالبہ کیا ان کے بقول انتظام کرنے کے بجائے انہی کے خلاف محکمہ ہذا نے کیس درج کیا جو کسی المیہ سے کم نہیں ہے اس سلسلے میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ درخت کی زد میں آنے کے بعد ایک غریب شخص کی موت کے حوالے سے سنجیدگی کامظاہر ہ کرکے مذکورہ کے لواحقین کی مدد کی جائے اور 33ہزار میگاواٹ ترسیلی لائن کو ہٹاکر متبادل جگہ پر نصب کیا جائے اس کے علاوہ سوشل فارسٹ محکمہ کے افسران کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے اور ان کو ہدایت دی جائے وہ بوسیدہ درختوںکو گرانے کے لئے اقدامات اٹھائے ۔ نمائندے کے مطابق بارہمولہ پولیس کی ایک ٹیم نے جائے واردات پر پہنچ کر قانونی لوازمات پورا کرکے کیس درج کیا اور تحقیقات شروع کی ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.