سرینگر/ 27اگست /کے پی ایس : شدت گرمی اور خشک سالی عرصہ دراز حاوی رہنے کے بعد مو سلا دھا ر بارشوں کا سلسلہ شروع ہواہے جس سے نہ صرف انسانوں کو ہی راحت ملی بلکہ کھڑی فصلوں اور میوہ جات میں بھی نئی بہار آئی۔ رواں سال میں مسلسل خشک سالی کی وجہ سے فصلیں سوکھ پڑی تھی جبکہ میوہ جات کی رنگت اور ہیت تبدیل ہورہی تھی تاہم دیر ہی سہی موسلا دھار بارشوں سے ایک بار پھر زمینداروں میں امیدیں بڑھ گئی یہ بات قابل ذکر ہے کہ بارش تمام جانداروں بشمول انسانوں اور حیوانوں کی زندگی کے لئے اہم ضرورت ہے اور بارشیں ہی تمام جانداروں کے رزق کا سبب بھی بنتی ہے ۔یہ بارشوں کا ایک پہلو ہے جبکہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسلسل موسلا دھار بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے جس سے گھروں کے گھر اجڑ جاتے ہیں اور جانیں تلف ہوتی ہیں ۔ روا ں سال میں بھارت کی مختلف ریاستوں میں مسلسل بارشوں کے بعد فلک بوس مکانات زمین بوس ہوگئے جبکہ اربوں کی جائیدادیں بھی سیلابی پانی کے ساتھ بہہ گئے ۔وادی میں مسلسل بارشوں کے بعد لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے کیونکہ سال 2014کی قیامت خیز سیلابی صورتحال آج بھی لوگوں کے آنکھوں کے سامنے رقص کرتی ہیں ۔ جس دوران محلات جیسے تعمیراتی ڈھانچے سیلابی پانی کے ساتھ ہی بہہ گئے اور ہر طرف تباہی ہی تباہی دیکھنے کو مل رہی تھی ۔6سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی سیلاب سے ہوئی تقصان کی برپائی نہیں ہو پارہی ہے جبکہ سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کے حوالے سے کئے گئے اعلانات تاایںدم صرف زبانی خرچے ہی ثابت ہوئے جو لوگ اس قیامت خیزسیلاب میں متاثر ہوئے وہ بڑی مشکل سے دوبارہ اپنے ٹانگوں پر کھڑا ہوئے اور اپنے اہل وعیال کی پرورش میں جڑ گئے جبکہ مصیبت کے دوران کوئی پرسان حال نہیں رہا ۔ چونکہ گزشتہ دنوں سے شدت کی گرمی کے بعد وادی کے اطراف و اکناف میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلسہ شروع ہوا ایک طرف جہاں لوگ خوش نظر آرہے ہیں تو دوسری طرف سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے لوگ خوف زدہ ہوئے ہیں ۔ کشمیر پر یس سروس کو مختلف علاقوں سے تفصیلات موصول ہورہی ہیں کہ ان علاقوں کے کوہلوں ،دریائوں ، ندی نالوں میں پانی کا بہائو سطح آب سے بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں سیلابی صورتحا ل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔بتایا جاتاہے کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے اگر چہ سرکار بلند بانگ دعوے کررہی ہے تاہم زمینی سطح پر کسی قسم کی سرگرمیاں دیکھنے کو نہیں ملتی ہیں ۔ شمالی کشمیر اور جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں سے لوگوں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ موسلا دھار بارشوں سے میوہ جات اور کھڑی فصلوں میں نہی جان آگئی ہے جس سے ان کی امیدیں بڑھ گئیں ہیں انہوں نے کہا کہ رحمت باراںکے بعد لوگوںنے شدت گرمی سے نجات حاصل کرکے راحت لی تاہم کئی مقامات پر بادوباراں کے ساتھ گرج چمک سے مکانات اور کھڑی فصلوں اور میوہ باغات کو کافی نقصان ہوا ۔ جبک پانی کی ریلیاں تیز ہونے سے پانی بستیوں میں داخل ہورہا ہے جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اس حوالے سے لوگ تذبذب کے شکار ہوئے اس سلسلے میں سرکار پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بحر صورت گذشتہ سیلاب کو مد نظر رکھتے ہوئے جنگی پیمانے پر اقدامات اٹھانے کے لئے سرگرمیاں تیز کریں ۔تاکہ لوگوں کو ایک بار پھر سیلابی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے اور لوگوںکا جان و مال محفوظ رہے ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.