سرینگر/27اگست: وادی کشمیر کو خطہ پیر پنچال سے ملانے والے مغل روڑ پر عام گاڑیوں کو چلنے کی اجازت نہ دینے سے دونوں جانب لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ روڑ پر مسافر بس سروس کے ساتھ ساتھ دیگر نجی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی جائے ۔ تفصیلات کے مطابق وادی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے راستے وادی کو خطہ پیر پنچال سے ملانے والا تواریخی مغل روڑ اگرچہ اس وقت ٹریفک کی آواجاہی کیلئے کھلا ہے تا ہم اس سڑک پر صرف مال بردار گاڑیوں ، ٹرکوں کو ہی چلنے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ اس روڑ پر کسی بھی نجی گاڑی یا مسافر گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو اس شاہراہ کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہورہا ہے ۔ دونوں جانب کے لوگوں نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ اس تواریخی روڑ پر نجی گاڑیوں اور مسافر گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی جائے تاکہ لوگوں کو اس سڑک کے کھلنے کا فائدہ ملے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بیمار ہو یا کوئی او ر ایمرجنسی ہو تو لوگوں کو سرینگر جموں شاہراہ کے ذریعے اپنے مقام تک پہنچنا پڑتا ہے ۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس روڑ پرمسافر گاڑیوں کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ اور نجی گاڑٰیوں کو بھی سفر کرنے کی اجازت ہو۔ یاد رہے کہ مغل روڑ سرینگر جموں شاہراہ کے متبادل روڑ ہونے کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے تاہم یہ روڑ کافی وقت تک بند رہنے کے بعد اس کو دوبارہ کھول دیا گیا تاہم عام لوگوں کو گاڑیاں چلانے کی اجازت نہیں ہے ۔تواریخی مغل روڑ قریب چھ ماہ تک بند رہنے کے بعد ماہ اپریل یا مئی میں کھول دیا جاتا ہے ۔ لیکن صرف مال بردار گاڑیوں اور ٹرکوں کو ہی چلنے کی اجازت ہے ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.