سرینگر/20اگست: کوروناوائرس کے چلتے وادی میں لاک ڈاون کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں انتہائی متاثر ہوچکی ہے جبکہ دکاندار اب اپنا مال چھاپڑیوں اور ریڈوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہورہے ہیں اگرچہ لاک ڈاون اب کئی شرائط پر ختم کردیا گیا ہے تاہم اب بھی دکانیں پوری طرح سے کھلی نہیں ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کوروناوائرس کی مہاماری کی وجہ سے گزشتہ پانچ ماہ سے جو یہاں پر حالات پیدا ہوئے ہیں ان حالات کی وجہ سے تاجر طبقہ کافی حد تک متاثر ہوچکا ہے اور دکاندار اب اپنا مال فروخت کرنے کیلئے مال چھاپڑیوں اور ریڈوں پر سجادیتے ہیں ۔ وادی میں خاص کر شہر سرینگر میں گزشتہ کئی روز سے دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی تاہم 50فیصدی ہی دکانیں کھولنے کی اجازت ہے اس کی وجہ سے دکانین کچھ کھلی ہے اور کچھ دکانیں بند پڑی ہے ۔ طویل لاک ڈاون کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء میں سے بہت سی چیزیں ذائد المیعاد ہوچکی ہے جن کو دکاندار پھینکنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ ادھر معلوم ہو ا ہے کہ بہت سارے دکانیں جن میں جوتے والے، کپڑے والے، کراکری والے اور دیگر چیزیں فروخت کرنے والے دکانداروں نے اب اپنا مال چھاپڑیوں اور ریڈوں پر سجالیا ہے تاکہ مال زیادہ سے زیادہ بک جائے ۔ کئی دکانداروں نے سٹی رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہا ں پر اکثر اوقات دکانیں بند ہی رکھنی پڑتی ہے اسی لئے اب ہم اپنا مال دکانوں سے باہر بیڈوں اور ریڈوں پر سجاکر فروخت کرتے ہیں جس سے ایک تو مال بھی بکتا ہے دوسرا ہمارا پیسہ بھی واپس نقدی کی صورت میں وصول ہوتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ یہاں پر کاروباری طبقہ کافی حد تک متاثر ہوچکا ہے کیوں کہ گزشتہ برس اگست سے قریب چھ ماہ تک ہڑتال، بندشیں اور کرفیو رہا پھر جب حالات معمول پر آئے تو موسم اس قدر خراب ہوا کہ معمولات زندگی متاثر ہوئی ۔ موسم بہتر ہوا تو کوروناوائرس نے اپنا جال اس قدر پھیلا دیا کہ تاجر طبقہ کی رہی سہی کسر پوری ہوئی ۔ سی این آئی
Comments are closed.