قریب 5ماہ کے وقفے کے بعد جموں کشمیر میں مذہبی مقامات دوبارہ کھول دئے گئے ، لوگوں میں خوشی کی لہر
عرس مبارک چہار یار باصفاء کے سلسلے میں درگاہ حضرتبل اوردیگر جگہوں پر ہوگی تقریبات، لوگ ایس او پیز پر عمل کریں
سرینگر/16اگست/: آج کم و بیش 5ماہ کے بعد جموں کشمیر میں مذہبی مقامات کھول دئے گئے جن میں آستان عالیہ ، درگاہیں، زیارت گاہیں ، مندر ومساجد اور گوردوارے شامل ہیں ۔ مذہبی مقامات کے دوبارہ کھل جانے سے ذائرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے تاہم انتظامیہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ لوگ مذہبی مقامات پر حاضری کے دوران ہدایات پر مکمل عمل کریں ۔ ادھر 18اگست کو وادی میں عرس مبارک چہار یار باصفاء مذہبی جوش کو خروش کے ساتھ منایاجارہا ہے اور اس سلسلے میں درگاہ شریف حضرتبل، جناب صاحب صورہ ، آثار شریف شہری کلاش پورہ ، کابہ مرگ اور دیگر جگہوں پر تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے تاہم آستانوں پر کسی قسم کی بھیڑ جمع ہونے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر میں آج پانچ ماہ بعد مذہبی مقامات کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے ۔کووڈ 19کے پیش نظر رواں برس کے ماہ مارچ میں لاک ڈاون نافذ العمل آنے کے ساتھ ہی جموں کشمیر میں مذہبی مقامات کو عارضی طور پر ذائرین کیلئے بند کردیا گیا تھا تاہم آج اتوار کی صبح تمام مذہبی مقامات کو دوبارہ کھول دیا گیا ۔ آج سے جموں کشمیر میں تمامندر ، مساجد، گوردوارے اور گرجا گروں میں لوگوں کو جانے کی اجازت ہوگی تاہم سرکاری احکامات اور ہیلتھ گائڈ لائن پر عمل پیرا ہوکر ہی ذائرین اندر جاسکتے ہیں ۔ ذائرین کو ماسک کا استعمال ، سینی ٹائرز کا استعمال اور سماجی دوری کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔ ادھر جموں کے کٹرہ قصبہ میں واقع ’’ماتا ویشنو دیوی‘‘کا مندر کھل جانے کے ساتھ ہی ہندوذائرین نے مندر میں حاضری دی ۔ دریں اثناء وقف بورڈ نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں مشہور عرس مبارک چہار یار باصفاء کے سلسلے میں درگاہ حضرتبل ، جناب صاحب صورہ، آثار شریف شہری کلاش پورہ، کابہ مرگ اور دیگر زیارت گاہوں پر تقریبات منعقد کی جارہی ہے تاہم دوران عرص مبارک لوگوں کو بھیڑ جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور ناہی بغیر ماسک کے کسی شہری کو اندر جانے کی اجازت ہوگی ۔
Comments are closed.