انتخابات آنے دو ،تمام سیاسی لیڈران گھروں سے’’ مینڈکوں‘‘ کی طرح نکل کر شرکت کریں گے / اشوک کول
جموںکشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے مرکزی سرکار وعدہ بند تاہم عسکریت کا مکمل خاتمہ پہلے لازمی
سرینگر/15اگست: بی جے پی کے بغیر جموںکشمیر کے سیاسی لیڈران کو ’’ مینڈک ــ‘‘قرار دیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے جموں و کشمیر کے جنرل سکریٹری اشوک کول نے کہا کہ میں دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ انتخابات آنے کے ساتھ ہی تمام سیاسی لیڈران مینڈکوں کی طرح باہر نکل آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار جموں کشمیر میں ریاستی درجہ بحال کرنے کی وعدہ بند ہے تاہم یہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک یہاں عسکریت کا مکمل خاتمہ نہ ہو۔ سی این آئی کے مطابق بی سرینگر میں جے پی ہیڈکواٹرس میں پرچم لہرانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے جنرل سیکرٹری اشوک کول نے اس وقت ایک نیا تنازعہ کھڑا کیا جب انہوں نے جموں کشمیر کے سیاسی لیڈران کو مینڈک قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ انتخابات کو آنے دو تمام سیاسی لیڈران باہر نکل کر اس عمل میں شرکت کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جیسے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ جموںکشمیر میں حد بندی ختم ہونے کے ساتھ ہی انتخابات ہونگے اور کہا کہ حد بندی سلسلہ جاری ہے اور جیسے ہی یہ ختم ہو گی تو جموںکشمیر میں انخابات منعقد ہونگے ۔ سیاسی لیڈران کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے بارے میںایک سوال کے جواب میں کول نے کہا کہ ان لیڈران نے پہلے بھی ایسا کہا تھا تاہم بعد میں انہوں نے ضمنی انتخابات میں کیسے شرکت کی ۔ کول نے کہا کہ ’’میں اس بات پر شرط لگا رہا ہوں کہ جب اسمبلی انتخابات کا بگل بجائے گا تو تمام سیاسی لیڈران گھروں سے مینڈکوں کی طرح نکلیں گے اور رائے شماری میں شامل ہوں گے ‘‘، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ سے جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کروانے کا اعلان کیا اور اب ہمیں نئے سیاسی عمل کے بارے میں تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ریاستی درجہ کی بحالی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار جموں و کشمیر کو ریاستی حیثیت کی بحالی کے لئے پرعزم ہے۔ لیکن اس کے لئے تمام بندوقیں خاموش ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کل ہی نوگام علاقے میں دو ہولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ، ان کا کیا قصور تھا؟ ۔ (سی این آئی )
Comments are closed.