مادر رحم میں پل رہی بچی کی موت،کنزر ٹنگمرگ میں طبی عملے کے خلاف لوگوں کا احتجاج

سرینگر /9 اگست / کے این ٹی // شمالی ضلع بارہمولہ کے کنزر ٹنگمرگ میں مادر رحم میں پل رہے ایک بچی کی موت واقع ہونے پر لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے،مقامی لوگوں کے مطابق بچی کی موت طبی عملے کی مجرمانہ غفلت شعاری سے ہوئی ہے۔انہوں نے طبی عملے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملوث عملے کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔کشمیرنیوز ٹرسٹ کے مطابق کنزر ٹنگمرگ میں قائم پرائمری ہیلتھ مرکز کے خلاف زوردار مظاہرے کئے ہیں۔کے این ٹی کے ساتھ بات کرتے ہوئے محمد عارف نے الزام لگایا کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں نے بچی کی ماں کا یو ایس جی کرنے سے انکار کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ وقت پر طبی معاینہ نہ ملنے لے سبب بچی ماں کے رحم میں ہی دم توڑ گئی۔انہوں نے کہا، ہم نے ڈاکٹروں کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن انہوں نے یو ایس جی کے لئے جانے سے انکار کردیا جوکہ ڈاکٹر کی سراسر مجرمانہ غفلت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بچی کی والدہ 05 اگست کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا جوکہ اس کی متوقع ترسیل کی تاریخ تھی لیکن اسپتال میں ڈاکٹروں نے مریض کا یو ایس جی کرنے سے انکار کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہنارمل ڈیلیوری کے منتظر تھیں ، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ادھر طبی مرکز کی ایک ڈاکٹر نے اس ضمن میں بتایا کہ بچی یہاں نہیں بلکہ دوسرے ہسپتال میں فوت ہوئی،انہوں نے کہا کہ مریض کی یو ایس جی جون کے مہینے میں کی گئی تھی لہذا فی ڈاکٹروں کی مشاورت کے لئے کسی نئے یو ایس جی کی ضرورت نہیں تھی۔انہوں نے کہا ، یہ غفلت نہیں ہے ، یہ چیزیں ہمیشہ غیر متوقع ہوتی ہیں۔ ہم پہلے ہی محکمانہ تحقیقات کا حکم دے چکے ہیں اور ہم ابھی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

Comments are closed.