کورنا وائرس کے بیچ ستمبر کے آخر کے امتحان سے متعلق احکامات

عدالت عظمیٰ میں طلبہ کے گروپ کی عرضی دائر ، احکامات منسوخ کرانے کا مطالبہ

سرینگر /20جولائی: کورنا وائرس کی وبائی بیماری کے چلتے تمام یونیورسٹیوں او ر کالجوں میں 30 ستمبر تک آخری سال کے امتحانات کے انعقاد کے سلسلے میں رہنما ہدایات کے سلسلہ میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے حالیہ احکامات کو منسوخ کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے حالیہ دنوں احکامات صادر کئے تھے جس میںتمام کالجوں اور یونیورسٹیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ 30ستمبر 2020تک امتحانات کا انعقاد عمل میںلایا جائے جس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے طالبہ نے عدالت عظمیٰ نے ایک عرضی دائر کی ہے اور مطالبہ کیا کہ ان احکامات کو منسوخ کیا جائے گا ۔ 10 سے زائد طلبا نے یو جی سی کی 6 جولائی کے رہنما ہدایات کو عدالت عظمی میں چیلنج کرتے ہوئے درخواست دائر کی ہے۔ ان درخواست گزار طلباء میں کورونا کا شکار طالبعلم بھی ہے۔درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ یہاں بہت سے سال آخرکے طلبا ہیں جو یا تو کوروناوائرس کا شکار ہیں یا ان کے کنبہ کے افراد اس وبا کا شکار ہیں۔ ایسے طلباء کو رواں سال 30 ستمبر تک سال آخر کے امتحانات میں شرکت کے لئے مجبور کرنا حقوق زندگی کے تحت آرٹیکل 21 کی واضح خلاف ورزی ہے۔وکیل الکھ آلوک سریواستو کے ذریعہ دائر کی گئی درخواست میں دعوی کیا گیا ہے کہ عام طور پر 31 جولائی تک اسٹوڈنٹس کو مارکس سرٹیفکیٹ / ڈگری دیئے جاتے ہیں، جبکہ موجودہ حالات میں امتحانات 30 ستمبر تک ختم ہوں گے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ جب بورڈ آف ایجوکیشن کے دسویں اور بارہویں کے امتحانات کو منسوخ کیا جاسکتا ہے اور’انٹرنل اسسمینٹ‘کی بنیاد پرنتائج کا اعلان کیا جاسکتا ہے تو پھر سال آخر کے اسٹوڈنٹس کا کیوں نہیں؟۔

Comments are closed.