مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی؛کورونامعاملات میں اضافہ، سینی ٹائزیشن کا کام بند

سرینگر/18جولائی: وادی میں پہلے جس علاقے کو ریڈ زون یا بفر زون قراردیا جاتا تھا اُس علاقے کو فوری طور پر اپنی تحویل میں لیکر علاقہ کی سینی ٹائزیشن اور متاثرہ افراد کے ارد گرد رہنے والوں کو کورنٹائن میں رکھا جاتا تھا تاہم اور علاقہ کے نمونے حاصل کئے جاتے تھے تاہم اب صورتحال باالکل مختلف ہے جہاں وادی میں کوروناوائرس کے کیسوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے وہیں اب محکمہ ہیلتھ اور محکمہ میونسپلٹی خاموش ہوگئی ہے نہ کسی جگہ کو سینی ٹائز کیا جارہا ہے اور ناہی کسی ریڈ زون یا بفر زون علاقوں میں کسی میڈیکل ٹیم کو بھیج دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وائرس کے پھیلنے میں اور زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے اور اموات بھی بڑھ سکتی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی میں کوروناوائرس جس قدر بھیانک رُخ اختیار کررہا ہے اُسی قدر محکمہ ہیلتھ اور میونسپلٹی نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے پہلے وادی کے جس علاقے کو ریڈ زون یا بفر زون قراردیا جاتا تھا اُس علاقے کو فوری طر پر گھیرے میں لیا جاتا اور سینی ٹائزیشن کا عمل شروع کیا جاتا ۔ دن میں دو دو بار ٹیمیں گشت کرتی اور علاقے کو چھڑکائو کرتی اس کے ساتھ ہی متاثرین کے افراد خانہ اور دیگر ارد گرد کے لوگوں کے نمونے حاصل کئے جاتے تھے جبکہ متاثرین کے زیر ربط آنے والے افراد کو کورنٹائن میں رکھا جاتا تھا تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ اب اس طرح کی کوئی بھی کارروائی نہیں کی جاتی ہے ۔ریڈ زونوں او ر بفر زونوں کی سینی ٹائزیشن تو دور کی بات ہے اب میڈیکل اور میونسپلتی کی ٹیم بھی علاقہ میں نہیں آتی صرف محکمہ ایجوکیشن یا دوسرے محکمہ مال سے جڑے ملازمین کو علاقہ کی سروے کیلئے بھیج دیا جاتا ہے جو محض اپنی نوکری بچانے کیلئے علاقہ میں جاکر گنے چنے گھرانوں کی تفصیلات جمع کرتے ہیں ۔ پہلے وادی میں 10سے 20کیس روزانہ سامنے آتے تھے لیکن اب 200تین سو روزانہ آتے ہیں لیکن اب انتظامیہ بھی ڈھیلی پڑ گئی ہے ۔ پہلے سینی ٹائزیشن ، چھڑکائو اور دیگر اقدامات پر روزانہ لاکھوں روپے خرچ کئے جارہے تھے لیکن اب ایک پیسہ بھی کہیں پر خرچ نہیں کیا جاتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اب سرکار اس وبائی بیماری پر پیشہ خرچ کرنا نہیں چاہتی ۔

Comments are closed.