سرینگر/17جولائی: ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ وادی میں کووڈ19مریضوں میں جس قدر اضافہ ہورہا ہے اس سے لگتا ہے کہ وائرس نے بھیانک رُخ اختیار کیا ہے اور وائرس دوسری صورت میں تبدیل ہوچکا ہے جو کہ ہمارے لئے باعث پریشان ہے کیوںکہ امریکہ اور یورپ کے دیگر ممالک میں اموات اور کیسوں میں اضافے کی وجہ بھی یہی تھی کہ وائرس تبدیل ہوگیا تھا جس کی وجہ سے اس کا علاج دریافت نہیں ہورہا ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ وادی میں کووڈ مریضوںکی بڑھتی تعداد اور اموات سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ وائرس نے اپنی ہیت تبدیل کرکے بھیانک صورتحال اختیار کی ہے انہوںنے کہا کہ اگر یہ معاملہ ہوا ہے تو یہ کووڈ19سے اور زیادہ موذی ثابت ہوسکتا ہے کیوں کہ یورپی ممالک بشمول امریکہ میں بھی وائرس کی ہیت تبدیل ہوگئی ہے جس کی وجہ سے وہاں پر سائنس دان اس وائرس کا پتہ لگانے میں ناکام ہوچکے تھے جبکہ اس کے علاج و معالجہ میں بھی دشواریاں پیش آرہی تھیں جس کی وجہ سے وائرس نے لاکھوں کی جان لی۔ انہوں نے کہا کہ وائرس نے اب جارحانہ رُخ اختیار کیا ہوا ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ جب کوروناوائرس وادی میں وارد ہوا تو شروع شروع میں اس وائرس میں مبتلاء مریضوں کی تعداد کافی کم تھی اور اس کی نشانیاں بھی کم تھیں تاہم اب جو صورتحال ہے وہ باالکل مختلف ہے ۔انہوںنے کہا کہ وائرس کے جنٹک کوڈ کی نقل میں غلطی یا بلڈ سیلوں میں رہنے کی وجہ سے اپنی ہیت تبدیل کردی ہے جس کے باعث اب مریضوں میں اس کا پتہ لگانا مشکل بھی بن گیا ہے جبکہ یہ وائرس اور زیادہ مہلک ہوگیا ہے جو اموات کی شرح میں اضافے کا موجب بن گیا ہے ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.