ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کا سنسنی خیز انکشاف رپورٹ سے زیادہ ہوتی ہے اموات
30فیصدی سے زائد مرنے والوں کا ٹسٹ نہیں ہوتا/ڈاکٹر نثارالحسن
سرینگر/15جولائی: وادی کشمیر میں گزشتہ ایک ماہ سے کووڈ19کی اموات میں جس طرح سے اضافہ ہوا ہے وہ کوڈ کا ایک بھیانک صورتحال پیش کررہی ہے تاہم ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ وادی کشمیر میں جو کوروناوائرس کی وجہ سے ہورہی اموات سرکاری سطح پر ریکارڈ کی جاتی ہے مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں ایک طرف کووروناوائرس کے کیسوں میں بدتریج اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے دوسری طرف اس جان لیوا وائرس کی وجہ سے اموات بھی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے جس پر لوگوں میں سخت تشویش بڑھ رہی ہے اگرچہ سرکار نے لاک ڈاون دوبارہ شروع کیا ہے اس کے باوجود بھی اموات میں کوئی کمی نہیں ہورہی ہے بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ اس بیچ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وادی میں جو کووڈ19کی اموات سرکاری سطح پر دکھائی جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ لوگ اس وبائی وائرس سے مررہے ہیں تاہم اکثر کی رپورٹ نہیں ہوتی ۔ ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر ریاض احمد ڈگہ کی جانب سے مشتہر کئے گئے بیان میں ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ اکثر مریض جن میں کووڈ کی نشانیاں پائی جاتی ہے سماجی مجبوری اور اپنے اہل وعیال کو کورنٹائن سے بچانے کیلئے کووڈ ٹسٹ انجام نہیں دیتے ۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں کووڈ 19میں ایک بدنماداغ سمجھنے کی وجہ سے لوگ اپنی بیماریوں کو چھپارہے ہیں اور طبی امداد حاصل کرنے سے دور رہتے ہیں کیوں کہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ اگر وہ ہسپتال جائیں گے تو انہیں کووڈ19قراردیا جائے گا جو اس کے اور اس کے رشتہ داروں کیلئے باعث پریشان بن جائے گی اور یہ ایک تشویشناک معاملہ ہے جس کی وجہ سے بغیر علاج ہی ایسے مریض فوت ہوجاتے ہیں اور مرنے والے کو یہ بھی خدشہ ہوتا ہے کہ اگر اس کی موت کووڈ کی وجہ سے قراردی جائے گی تو اس کے جنازے میں بھی کوئی نہیں آئے گا ۔ انہوںنے کہا کہ ان ہی سماجی مجبوریوں کی وجہ سے مختلف امراض میں مبتلاء لوگ گھروں میں ہی دم توڑ بیٹھتے ہیں اگرچہ وہ کووڈ مریض بھی ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ لوگوں میں یہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ یہ وائرس اصل میں ہی ہے نہیں بلکہ اس کو مہرا بنایا گیا ہے اس کی صورت بھی لوگ علاج کرانے سے ڈرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اکثر عمر رسیدہ افراد کو ہسپتال میں داخل کیا جاتا ہے اور مرنے والوں میں بھی زیادہ عمر رسیدہ افراد ہی ہے ۔ کہیں ایک عمر رسیدہ مریضوںمیں کووڈ کی سخت نشانیاں نہیں پائی جاتی جبکہ وہ اس وائرس کی وجہ سے کافی کمزور ہوجاتے ہیں تاہم ہسپتالوں میں بھی اس طرح کے مریضوں کے بارے میں ڈاکٹروں کو جلد بیماری کا پتہ نہیں چلتا جس کی وجہ سے وہ بغیر جانچ کئے ہی دم توڑ دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کئی مریضوں کو کووڈ19کا انفکشن دوسرے بیماریوں کی وجہ سے دب جاتا ہے اور اگر مریض پھیپھڑوں یا دل کی بیماری میں مبتلاء ہوتا ہے تو اس کی موت بھی اسی کی وجہ سے قراردی جاتی ہے جبکہ اصل میں اسکااصل دشمن کووڈ ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ 30فیصدی سے زیادہ اموات کی رپورٹ نہیں ہوتی کیوں کہ ان کا کووڈ 19ٹسٹ نہیں ہوتا۔
Comments are closed.