سرحد کے اُس پار لانچنگ پیڈوں پر 3سے 4 سو کے قریب جنگجوئوں درندازی کی تاک میں / دلباغ سنگھ
امن کی صورتحال قائم کرنے کیلئے فوج اور پولیس کوشاں ، جنگجوئوں مخالف آپریشنوں میں کافی کامیابی ملی
امرناتھ یاترا کیلئے تمام انتظامات کئے گئے ، حمتی فیصلہ لینا حکومت کے ہاتھوں میں
سرینگر /14جولائی : سرحد کے اُس پار لانچنگ پیڈوں پر 3سے چار سو کے قریب جنگجوئوں درندازی کی تاک میں بیٹھے ہیں کی بات کرتے ہوئے جموں کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ وادی کشمیر میں امن کا ماحول قائم کرنے کیلئے فوج اور پولیس کوشاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امسال فوج و پولیس کو جنگجوئوں مخالف آپریشنوں میں اعلیٰ کامیابی ملی ہے اور کئی اعلیٰ کمانڈروں سمیت سو سے زائد جنگجو مارے گئے ۔ سی این آئی کے مطابق پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے منگل کو وسطی ضلع بڈگام کا دورہ کیا جس دوران انہوںنے وہاں سیکورٹی صورتحال کا جائیزہ لیا ۔ اس موقعہ پر ان کے ہمراہ پولیس کے دیگر افسران بھی موجود ہے ۔ دورے کے دوران دلباغ سنگھ نے پولیس اہلکاروں سے بھی خطاب کیا جس دوران انہوں نے کہا کہ امسال انہیں جنگجو مخالف آپریشنوں میں کافی کامیابی ملی ہے ۔ اور متعدد جھڑپوں میں جنگجوئوں کے اعلیٰ کمانڈروں کو ہلاک کر دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں پرامن ماحول بنانے کی کوششیںجاری ہے جبکہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ ماضی کے مقابلے میں وادی کے نوجوان نوجوان عسکریت پسندی کی صفوں میں شامل نہیں ہو رہے ہیں۔دلباغ سنگھ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب اعلی تعلیم یافتہ نوجوان ہتھیار اٹھا رہے تھے اور عسکری صفوں میں شامل ہو رہے تھے تاہم اس میں بڑی کامیابی آئی ہے اور اب کچھ ہی نوجوان عسکریت کی طرف مائل ہو رہے ہیں ۔ پاکستان کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بارے میں دلباغ سنگھ نے کہا کہ دراندازی کو کامیاب بنانے کے لئے پاکستان کے ہاتھوں میں جنت بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرنا ہی واحد ہتھیار ہے لیکن سرحدوں پر تعینات ہمارے فوج پاکستان کی ہر کارورائی کا بھر پور انداز میںجواب دے دہی ہے اور کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جاتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ سرحد کے اُس پار لانچنگ پیڈوں پر 3سے چار سو کے قریب جنگجوئوں درندازی کی تاک میں بیٹھے ہے اور وہ اس کوشش میں ہے کہ کشمیر میں داخل ہو جائے ۔ امرناتھ یاترا کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں حکومت کو حمتی فیصلہ لینا ہے تاہم سیکوٹی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور پہلے ہی اس بارے میں سیکورٹی صورتحال کو ہری جھڈی دی گئی ہے ۔
Comments are closed.