لاک ڈاون کی آڑ میں اینٹوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ؛اینٹ بٹھ مالکان کی من مانیوں کے آگے انتظامیہ بھی بے بس

سرینگر/13جولائی: وادی میں اینٹ بٹھ مالکان نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کردیا ہے لاک ڈاون سے پہلے اینٹ فی گاڑی کی قیمت 14سے 15ہزارروپے تھی تاہم لاک ڈاون کی آڑمیں اس کی قیمت 35ہزارکردی گئی ہے جس کے نتیجے میں تعمیراتی سرگرماں انجام دینے والے افراد سخت پریشان ہوگئے ہیں۔ ان اینٹ بٹھ مالکان سے کسی بھی طرح کی باز پُرس نہیں کی جارہی ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مابق وادی میں تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کردیا گیا ہے خاص کر اینٹ بٹھ مالکان نے لاک ڈاون کی آڑ میں اینٹوں کی قیمتوں کو دوگنی کردیا ہے ۔ لاک ڈاون سے پہلے یعنی ماہ مارچ، فروری میں اینٹ گاڑی کی قیمت 15سے 16ہزار روپے تک تھی اور مارچ میں لاک ڈاون کے بعد اس کی قیمتوں کو اچانک دوگنا کردیا گیا ہے ۔ اینٹ بٹھ مالکان مزدوروں کی نایابی کا بہانہ بنارہے تھے تاہم آج کی تاریخ میں ضلع اننت ناگ کے سینکڑوں اینٹ بٹھوں میں ایک لاکھ کے قریب غیر کشمیری مزدور کام کررہے ہیں ۔ اب سب کچھ پہلے کی طرح چل رہا ہے اس کے باوجود بھی اینٹ کی قیمت میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق لاک ڈاون سے پہلے اینٹ فی گاڑی 15سے 16ہزا ر رپے فروخت کی جاتی تھی تاہم اب یہی اینٹ گاڑی 30سے 35ہزا روپے فروخت کی جارہی ہے جو سراسر ظلم اور ناانصافی ہے ۔ ذارائع نے بتایا کہ اینٹ فی گاڑی بشمول لاگت اور مزدوری کے ایک اینٹ گاڑی 8سے 9ہزار تک تیار ہوجاتی ہے تاہم اینٹ بٹھ مالکان کی جانب سے کی جارہی من مانیوں کے آگے انتظامیہ بھی بے بس نظر آرہی ہے ۔ اس صورتحال پر لوگوںنے سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اینٹ بٹھ مالکان کی لگام نہیں کس لی گئی تو وہ آگے بھی اسی طرح کی من مانیاں جاری رکھیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ اینٹوں کی قیمتوں میں ناجائز اضافہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارراوئی عمل میں لائی جائے اور سرکار کی جانب سے اینٹوں کی مقرر کردہ قیمتوں کو عملانے کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں ۔

Comments are closed.