شمالی کشمیر میں 35سے 40غیر ملکی اور 17مقامی جنگجو سرگرم ، تین لشکر جنگجو ئوں کی ہلاکت سے بڑا خطرہ ٹل گیا

مقامی نوجوان کو عسکریت سے دور رکھنے کیلئے کوششیں جاری ، کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے فورسز تیار / ڈی آئی جی شمالی کشمیر

سرینگر/13جولائی: سوپور جھڑپ میں دو غیر ملکی سمیت تین لشکر جنگجوئوں کی ہلاکت کے ساتھ ہی بڑا خطرہ ٹل گیا کی بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی شمالی کشمیر نے کہا کہ ابھی بھی شمالی کشمیر میں 35سے 40اور 17مقامی جنگجو سرگرم ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ مقامی نوجوان عسکری صفوں میں شمولیت نہ کریں جبکہ پولیس و فورسز کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیا رہے ۔ سی این آئی کے مطابق سوپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی ) شمالی کشمیر رینج محمد سلیمان چودھری نے کہا کہ سوپور جھڑپ میں تین لشکر جنگجوئوںکو ہلاک کیا گیا جس سے ایک بڑا خطرہ ٹل گیا ۔ انہوںنے کہا کہ ابھی کسی امکانی حملے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے کیونکہ جھڑپ میں مارے گئے جنگجوئوں سے جو اسلحہ و گولہ بارود ضبط کر لیا گیا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ جھڑپ میںمارے گئے تین جنگجوئوں میں سے دو کی شناخت عثمان بھائی اور سیف اللہ کے نام سے ہوئی جبکہ تیسرے کی شناخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ عثمان بھائی ماڈل ٹاؤن سوپور میں حالیہ حملے میں ملوث تھے جس میں سی آر پی ایف کا ایک شہری شہری ہلاک ہوا تھا اور یہ دونوں غیر ملکی عسکریت پسند گذشتہ دو سالوں سے یہاں سرگرم تھے۔شمالی کشمیر میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کے تعداد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈی آئی جی شمالی کشمیر نے بتایا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ، 35-40 غیر ملکی عسکریت پسند شمالی اضلاع میں سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقریبا 16 یا 17 مقامی عسکریت پسند بھی سرگرم ہیں۔ڈی آئی جی نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق شمالی کشمیر میں سرگرم سات عسکریت پسندوں نے گذشتہ کچھ مہینوں میں دراندازی کی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہاں چار مقامی عسکریت پسند سرگرم تھے جن میں سے تین کو جھڑپوں میں ہلاک کیا گیا ۔

Comments are closed.