ڈاکٹروں کی لاپروائی سے شوپیان کے جواں سالہ طالب علم کی موت
لواحقین کا پریس کالونی میں احتجاج ، ملوث ڈاکٹروں کے خلاف کارورائی کا مطالبہ
سرینگر/06جولائی/: شوپیان کے طالب علم کی ہلاکت کے خلاف ایک مرتبہ پھر لواحقین نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹروں کی لاپروائی سے ابرار کی موت واقع ہوئی اور ان کی ہلاکت میں ملوث ڈاکٹروں کو سزا دی جائے ۔ سی این آئی کے مطابق کچھ دنوں قبل سرینگر کے سی ڈی اسپتال میں شوپیا ن کے 24سالہ طالب علم ابرار ریاض کی موت کے بعد لواحقین نے سرینگر کی پریس کالونی میں ایک مرتبہ پھر احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے الزام عائد کہا کہ ابرار کی موت ڈاکٹروں کی لاپروائی کے باعث ہوئی ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو بھی اس میں ملوث پایاجائے ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے ۔ اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مہلوک طالب علم کے لواحقین نے بتایا کہ ابرار ریاض کے حادثے میں زخمی ہونے کے بعد انہیں سرینگر کے صدر اسپتال علاج و معالجہ کیلئے منتقل کر دیا گیا تاہم حیرانگی کی بات یہ ہے کہ انہیں کورنا پازٹئیو قرار دینے کے بعد صدر اسپتال سے سی ڈی اسپتال منتقل کر دیا گیا اور زخم کا علاج کرنے کے بجائے انہیںکورنا کے علاج کیلئے منتقل کیا گیا ۔ انہو ں نے بتایا کہ تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ سکمز میں انہیں داخل کرنے سے اس بات کو لیکر منع کیا گیا کہ وہاں ونیٹی لیٹر نہیں ہے جبکہ صدر اسپتا ل میں جو نہی اس کی صحت میں کچھ بہتری آنے لگی تھی تو کورنا کا بہانہ بنا کر انہیں سی ڈی اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا جو کہ باعث افسوس بات ہے اور یہی وجہ بنی کہ اس کی موت واقع ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ سر میں چوٹ اگر کسی مریض کو آتی ہے اور وہ بعد میں کورنا کیلئے مثبت بھی ہو تو انہیں اسے اسپتال میں علاج ملنا چاہئے تھا جہاں دونوں بیماری کو ایک ساتھ علاج کیا جا سکے تاہم ڈاکٹروں نے لاپروائی کا مظاہرہ کرکے ابرار کو اسی حالت میں سی ڈی اسپتال منتقل کر دیا جہاںوہ زندگی کی جنگ ہار گیا ۔ لواحقین نے مطالبہ کیا کہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کرائی جائے اور جو بھی ڈاکٹر اس میں ملوث ہو ان کے خلاف کڑی سے کڑی کارورائی کی جائے تاہم ہمیں انصاف مل سکے ۔
Comments are closed.