عالمی وبائی بیماری کورنا وائرس کے پیش نظر امسال حج محدود، صرف ایک ہزار مقامی افراد کو ہی حج کی اجازت ہو گی
سعودی حکومت کی جانب سے رہنمائے خطوط جاری ،حج کے دوران کعبہ اور حجر اسود کو چھونے پر ،ماسک پہننا لازمی ہوگا
سرینگر/06جولائی: عالمی وبائی بیماری کورنا وائرس کے پیش نظر امسال حج کو محدود کیا گیا ہے۔19جولائی سے شروع ہونے والے حج میں اس بار صرف ایک ہزار مقامی افراد کو ہی حج کی اجازت ہو گی۔جس کیلئے سعودی عرب کی حکومت نے ایامِ حج کے دوران کرونا وائرس کے پھیلائوکو روکنے کے پیشِ نظر عازمینِ حج کے لیے ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق مکہ معظمہ کی گورنری کی طرف سے رواں سال فریضہ حج کے حوالے سے کرونا وبا کے پیش نظر خصوصی ہیلتھ پروٹوکول کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق حج کے دوران عازمین کے اجتماع اور ملاقاتوں پر پابندی ہو گی۔سعودی عرب نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ کرونا وائرس کے باعث اس بار صرف ایک ہزار مقامی افراد کو ہی حج کی اجازت ہو گی۔دنیا بھر سے لاکھوں عازمین ہر سال حج کے لیے سعودی سعودی عرب جاتے ہیں۔ سعودی ریاست کے قیام کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ حج کو محدود کیا گیا ہے۔19 جولائی سے شروع ہونے والے حج کے لیے سعودی عرب کے سینٹر فار ڈیزیز پریونشن اینڈ کنٹرول نے پیر کو ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق عازمین کعبہ کو ہاتھ نہیں لگا سکیں گے اور حجرِ اسود کو چھونے پر بھی پابندی ہو گی۔عازمین پر لازم ہو گا کہ وہ مناسکِ حج کی ادائیگی کے دوران ایک دوسرے سے کم از کم ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھیں۔ہدایت نامے کے مطابق عازمین نماز کی ادائیگی اور طواف کعبہ کے دوران بھی سماجی دوری کی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔ایامِ حج کے دوران منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں صرف انہی افراد کو جانے کی اجازت ہو گی جن کے پاس پرمٹ ہوں گے۔عازمین اور منتظمین کو مسجد الحرام کے علاوہ دیگر مقدس مقامات پر بھی ہر وقت ماسک پہننا لازم ہو گا۔خصوصی صحت پروٹوکول میں حجاج کرام کو سروسز فراہم کرنے والے اداروں، تنظیموں، رضاکاروں، رہائشی مقامات، ہوٹلوں، بسوں، عرفہ، مزدلفہ، رمی جمرات اور حرمی مکی کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔اس حوالے سے درج ذیل اہم اقدامات اور اعلانات کیے گے ہیں۔بغیر اجازت کے 28 ذی قعدہ سے 12 ذی الحج تک بغیر اجازت کے کسی شخص کو منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس سال کرونا وبا کی وجہ سے فریضہ حج کو محدود کیا گیا ہے اور صرف مملکت میں مقیم غیرملکی مسلمانوں اور مقامی شہریوں کو مناسک حج کی اجازت ہوگی۔اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے خصوصی ہدایت کی گئی ہے کہ حج کے لیے رجسٹریشن کرانے والے تمام افراد دیگر دستاویزات کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کے حوالے سے مصدقہ میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی شامل کریں گے جس میں ان کے کرونا جیسی وبا کا شکار نہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہو۔اگر کسی شخص پر کرونا کا شکار ہونے کا شبہ ہوا تو اسے فورا اپنی رہائش گاہ کی طرف پلٹنا ہوگا اور خود کو دوسرے حجاج کرام سے الگ کرنا ہوگا۔ تمام حجاج کرام کو اپنی رہائش، بسوں میں سفر اور روٹ کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ ایسا کوئی شخص جو نزلہ زکام، پیچش، ناک بہنے، گلے میں گھٹن یا اچانک بو اور ذائقے کی صلاحیت سے محروم ہونے والے شخص کو حجاج میں شمولیت کی اجات نہیں ہوگی۔حج ضابطہ اخلاق کے حوالے سے مکہ گورنری کی طرف سے جاری کردہ پروٹوکول میں عازمین حج سے کہا گیا ہے کہ وہ حج کے تمام مراحل میں پابندی کے ساتھ ماسک کا استعمال کریں اور سماجی دوری کے اصول پرقائم رہیں۔ عازمین حج کے لیے سماجی دوری کے اصول کے تحت دو افراد کے درمیان کم سے کم ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنے کو کہا گیا ہے۔حج کے موقعے پر خصوصی حج پروٹوکول کے تحت صفائی ستھرائی کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ایسے مقامات جنہیں ہاتھوں سے چھوا جاسکتا ہے کو سینی ٹائرز سے صاف کیا جائے۔ ان میں کرسیاں، بسوں کی سیٹیں، دروازوں کے دستے، کھانے کی میزیں شامل ہیں۔ ان کی صفائی کے ساتھ ساتھ ہر شخص اپنے ہاتھوں کو باقاعدگی اور کثرت کے ساتھ صابن سے دھوئے۔ انتظامیہ اور عازمین حج فریضہ حج کیموقعے پر صفائی کے حوالے سے دی گئی ہدایات پرسختی کیساتھ عمل درآمد کریں۔حج پروٹوکول کے تحت آب زمزم کے استعمال کے لیے بھی ہدایات دی گئی ہیں۔ مکہ گورنری کیوضع کردہ طریقہ کار کے مطابق پانی اور زمزم صرف ضرورت مند افراد کو یقینی بنائے جائیگی۔ حرم مکی میں عام حالات کے برعکس زم زم کیکولر ہٹا دیے جائیں گے۔حجاج کرام کو پہلے سے ڈبوں میں پیک شدہ کھانا ملے گا۔ کھانے کھانے سے پہلے اور اس کے بعد حجاج کرام اپنے ہاتھوں کو دھونے کے ساتھ ساتھ انہیں سینی ٹائرز سے بھی صاف کریں گے۔
Comments are closed.