فراڈ اور دھو کہ دہی میں خاتون کو دو سال قید

ایڈیشنل منصف سرینگر کی عدالت نے 15سال بعد سنایا فیصلہ

سری نگر // پندرہ سال قبل کرائم برانچ کی جانب سے داخل سماعت کئے گئے ایک کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے تھرڈ ایڈیشنل منصف سرینگر کی عدالت نے ملزمہ کو دو سال کی قید سنانے کے علا وہ اس پر آٹھ ہزار روپے کا جر مانہ عائد کر دیا ہے ۔کشمیر پریس سروس کو موصولہ اطلاعات کے مطابق سال2005میں کرائم برانچ نے ایک خاتون مسماۃ الفت زوجہ منشی ریاض احمد ساکن زڈی بل حول کے خلاف ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر 22/2005زیر دفعات419,420درج کیا جس میں ملزمہ پر الزام تھا کہ اس نے دھو کہ دہی اور جعلسازی سے کئی سال تک سر کا ری خزانہ سے تنخواہ حاصل کی ۔معاملہ کی تحقیقات سے اس بات کا خلاصہ ہوا ہے کہ سال1992میں سر ینگر کے نائو پو رہ خانیا ر علا قہ میں ایک خاتون جوکہ ملزمہ کی ما ں تھی فائر نگ کے ایک واقعہ میں جا ں بحق ہو ئی جس کے بعد اس کی بیٹی شگفتہ اختر نے ڈپٹی کمشنر سرینگر کے دفتر میں ایس آر او 43کے تحت سر کا ری نو کر ی فراہم کئے جا نے کے حوالے سے درخواست دی اور معا ملہ پر مذید کا روائی کر تے ہو ئے ڈپٹی کمشنر سر ینگر نے شگفتہ اختر کے نام سر کا ری نوکری کا ایک حکمنا مہ زیر نمبر 19-141/DCS/SRO43/02بتاریخ 02/11/2002اجراء کیا اور اسے محکمہ انیمل ہسبنڈری میں تعینا ت کیا گیا ۔تاہم شگفتہ اختر کے بجا ئے اس کی بہن الفت زوجہ منشی ریاض احمد نے نو کری جوائین کی اور وہ کئی سال تک سر کا ری خزانہ سے تنخواہ حاصل کر تی رہی ۔اس بات کا خلا صہ ہو نے کے بعد کرائم برانچ نے معاملہ کی تحقیقات شروع کر دی اور سال 2007میں معاملہ کے تئیں باضابطہ طور چالان بھی پیش کیا گیااور چالان میں یہ بات سامنے آئی کہ دراصل شگفتہ اختر کی ایک ایک بڑی بہن اور ایک چھو ٹا بھا ئی تھا بڑی بہن الفت کی شادی ایس آر او کے تحت نوکری ملنے سے پہلے ہی ہو گئی تھی جبکہ شگفتہ کا بھا ئی سر کا ری نو کری کے لئے عمر کی کم از کم حد سے بھی کم تھا اور وہ اس نو کری کا اہل نہیں تھا ۔اس دوران الفت نامی خاتون نے اپنی بہن کے نام نو کری کا آرڈر حاصل کر کے خود نو کری جوائن کر لی اور کئی سال تک محکمہ ٔ انیمل ہسبنڈری سے تنخواہ حاصل کر تی رہی ۔ ایڈیشنل منصف سرینگر فوزیہ پا ل کی عدالت میں معاملہ کی شنوائی ہو تی رہی جس دوران عدالت نے تمام گواہوں کے بیانات قلمبند کر نے اور دیگر دلائل سننے کے بعد ملزمہ کو دھو کہ دہی اور جعلسازی کا مر تکب پایا اور اس کو دفعہ419کے تحت ایک سال اور دفعہ420کیلئے ایک سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ اس پر آٹھ ہزار روپے کا جر مانہ بھی عائد کیا گیا ۔

Comments are closed.