ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کا پلازما بینک قائم کرنے پر زور؛کوروناوائرس سے ہورہی اموات کو روکنے کیلئے فی الحال یہ واحد طریقہ

سرینگر/05جولائی: ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ وادی میں کوڈ19کی وجہ سے بڑھتی اموات کو روکنے کیلئے دیگر ایس او پیز پر عمل کرنے کے علاوہ ’’پلازما‘‘بینک قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے جس میں کوروناوائرس سے صحت یاب ہونے والے مریض پلازمہ عطیہ کرسکتے ہیں اور اس کو ایسے مریضوں کی جان بچانے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے جن کی حالت انتہائی نازک ہو۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے وادی کشمیر میں کوروناوائرس سے ہورہی اموات کو روکنے کیلئے ’’پلازما‘‘بینک قائم کرنے پر زور دیا ہے ۔ ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ اس سے اموات کی شرح کم ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ19سے صحت یاب ہونے والے بہت سے افراد اپنا پلازما عطیہ کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ کیسے کرنا ہے اور کہاں پر کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پلازما بینک پلازما عطیہ کرنے والوں کو ایک راہ فراہم کرے گا اور انہیں موقع ملے گا کہ وہ اپنا پلازما دوسرے نازک مریضوں کی جان بچانے کیلئے عطیہ کرے۔ بینک سے عطیہ کرنے والوں اور پلازما حاصل کرنے والوں کیلئے آسانی پیدا کرے گا۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ پلازما تھیری پی ایسے مریضوں سے حاصل کیا جاتا ہے جو کوروناوائرس سے صحت یاب ہوئے ہوں اور یہ ایسے مریضوں کی زندگی بچانے کے کام آتا ہے جو انتہائی نازک حالت میں ہوں ۔انہوں نے کہا کہ پلازما تھیرپی کے نتائج بہت ہی بہتر سامنے آئے ہیں اور کوروناوائرس سے مریضوں کو بچانے کیلئے فی الحال ایک واحد ذریعہ ہے ۔ لوک نائک ہسپتال دلی میں پلازما تھیرپی 35مریضوں کو دی گئی جن میں سے 34افراد صحت یاب ہوچکے ۔ اسی طرح دلی کے ایک اور ہسپتال میں 49مریضوں کو پلازما تھرپی دی گئی جن میں سے 46افراد کی جان بچ گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پلازما تھیرپی آسان ہے جس طرح خون کا عطیہ کرنے والا خون عطیہ کرتا ہے اسی طرح پلازما بھی عطیہ کیا جاسکتا ہے اور اس میں صرف ایک گھنٹہ ہی لگتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ پلازما بینک میں ایک برس تک موجود رہ سکتا ہے ۔ اس دورارن انہوںنے اس بات پر افسوس کااظہار کیا ہے کہ اگرچہ پلازما تھیرپی نازک مریضوں کی جان بچانے میں کام آتا ہے تاہم یہاں کے ہسپتالوں کی جانب سے کورونامریضوں کو یہ تھیرپی نہیں دی جارہی ہے جس کے باعث مرنے والوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔

Comments are closed.