ویڈیو:کولگام کے بعد شہر سرینگر کے زونی مر علاقے میں مسلح تصادم آرائی ، تین جنگجو جاں بحق ، رہائشی مکان کو نقصان

جھڑپ کے ساتھ ہی سرینگر میں انٹر نیٹ خدمات معطل ، حساس مقامات پر بندشیں عائد

جنگجوئوں نے خود سپردگی کی پیشکش ٹھکرا دی ، مہلوک جنگجوئوں میں سے ایک بی ایس ایف اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث تھا / پولیس

 

سرینگر /21جون: جنوبی کشمیر کے بعد شہر سرینگر کے زونی مر علاقے میں فوج و فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان مسلح جھڑپ میں تین جنگجو جاں بحق ہو گئے جبکہ رہائشی مکان کو نقصان پہنچ گیا ۔ جھڑپ شروع ہونے سے قبل ہی سرینگر میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات بند کر دی گئی۔جبکہ حساس مقامات پر بندشیں عائد کی گئی تاہم جھڑپ ختم ہونے کے ساتھ ہی کئی مقامات پر فورسز اور نوجوانوں کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں بھی ہوئی ۔ پولیس نے جھڑپ میں تین جنگجوئوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مہلوک جنگجو میں سے دو مقامی ہے جبکہ تیسرے کی ابھی تک شناخت نہ ہو سکی ۔ پولیس کے مطابق جنگجو ئوںکو خودسپردگی کا بھی موقعہ دیا گیا تاہم انہوںنے ایسا نہیں کیا ۔ سی این آئی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سرینگر کے زونی مر علاقے میں تین جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج ، سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس نے سنیچروار اور اتوار کی درمیانی رات کو ہی علاقے میں محاصرہ میں لیکر وہاں تلاشی کارورائی شروع کر دی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اتوار کی صبح جونہی علاقے میں تلاشی آپریشن شروع کر دیا گیا تو سرینگر میں انٹر نیٹ خدمات بند کر دی گئی جبکہ حساس مقامات پر فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ۔ ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں اس وقت گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب ایک رہائشی مکان میں محصور جنگجوئوں نے محاصرہ توڑ کر فرار ہونے کی کوشش میں فوج و فورسز پر گولیاں چلائی ۔جھڑپ کی شروعات کے ساتھ ہی فورسزاہلکاروں کی اضافی کمک طلب کی گئی تاکہ جنگجوئوں فرار ہونے کا موقعہ نہ ملے۔علاقے کی طرف جانے والے تمام راستے بند کئے گئے اور علاقے کو چاروں طرف سے سخت گھیرے میں رکھا گیا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسی دوران پولیس نے محاصرے میں پھنسے جنگجوئوں کے اہل خانوں کو جھڑپ کے مقام پر لایا جنہوں نے انہیںخود سپرد گی کرنے کو کہا جبکہ پولیس نے بھی مقامی لوگوں کی مدد سے لوڈ اسپیکروں کا استعمال کرکے مکان میں موجود جنگجو کو ہتھیار ڈال کر خود سپردگی کرنے کو کہا تاہم مکان میں موجود جنگجوئوں نے فورسز پر گرینیڈ داغے جس کے بعد فائرنگ اور اس کے ساتھ ہی دوبد جھڑپ شروع ہو گئی ۔ ذرائع کے مطابق طرفین کے مابین گولی باری محض کچھ ہی منٹوں تک جاری رہی اور ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میںہی ایک جنگجو جاں بحق ہو گیا جبکہ دو دیگر جنگجو ئوںنے نزدیکی مکان میںپنا ہ لی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں کچھ گھنٹوں تک طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ جاری رہنے کے بعد جونہی گولیوں کا تبادلہ تھم گیا تو پولیس و فورسز نے جھڑپ کے مقام سے تین جنگجو ئوں کی نعشیں بر آمد کرلی جن میں سے دو کی شناخت مقامی جنگجو ئوں کے بطور ہوئی اور تیسرے کی شناخت فوری طور پر نہ ہو سکی ۔ آئی جی پی کشمیر نے جھڑپ میں تین جنگجوئوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سنیچروار کی دیر رات پولیس کو تین جنگجوئوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاع ملنے کے بعد علاقے میں محاصرہ کیا گیا جس دوران جنگجوئوں کو خود سپرد کرنے کی مہلت بھی دی گئی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ان تین میں سے دو مقامی تھے اور ہم ان کے اہل خانہ کو لائے اور علاقے کے ذی عزت شہری اور والدین کے ذریعہ لاؤڈ اسپیکر پر بار بار اعلان کیا۔ تاہم چھپے ہوئے جنگجوئوںنے دستی بموں سے حملہ کیا اور سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس سے انکاؤنٹر ہوگیا۔ انہوں نے کہا ، "اس انکاؤنٹر میں تین عسکریت پسند مارے گئے۔ان تینوں میں سے دو کی شناخت کی جا چکی ہے اور ان کو ہند وارہ یا بارہمولہ میں سپرد خاک کیا جائے گا اور ان کے والدین کو آخری رسومات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ تیسرے جنگجوئوں کی شناخت کرنے کیلئے کارورائی جاری ہے ۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ کے اختتام کے ساتھ ہی شہر خاص کے کئی مقامات پر فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ۔

 

Comments are closed.