سرینگر/19جون: عالمی سطح پر کووروناوائرس میں مبتلاء بچوں کی شرح فیصدی وادی کشمیر میں سب سے زیادہ ہیں وادی کشمیر میں کووڈکے کیسوں میں سے 17فیصدی بچے اس وبائی بیماری کے شکار ہوچکے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی میں اپنی نوعیت کے پہلے کیس میں آج ایک 15دنوں کا بچہ کووروناوائرس کا شکار ہوکر لقمہ اجل بن گیا ہے جس پر ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے دکھ اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں بچے کووڈ 19کے بہت زیادہ شکار ہوجاتے ہیں ۔ ڈاکٹر س ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر کی گئی سروے سے پتہ چلتا ہے کہ وادی کشمیر میں بچے دیگر ممالک کے نسبت بہت زیادہ کووڈ 19کے شکار ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہوںنے کہا کہ عالمی سطح پر صرف 2فیصدی بچے ہی اس عالمی وبائی مرض میں مبتلاء ہوگئے ہیں ۔ جبکہ وادی کشمیر میں یہ شرح 17.29فیصدی ہے اور 19برس تک کے بچے اس وبائی بیماری کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ہماری ایک سروسے جس میں ہم نے قریب 989لیبارٹروں سے مثبت کیسوں کے بارے میں جانکاری حاصل کی تو پتہ چلا کہ وادی میں نول کوروناوائرس میں 19برست تک کے عمر کے بچے جن کی تعداد 171ہے مبتلاء پائے گئے ۔ اکثر بچے جن کے ٹسٹ مثبت آتے ہیں کا رابطہ ایسے بڑوں سے رہا ہے جن کو وائرس ہوا ہے ۔جبکہ اکثر بچے جن میں وائرس ہوبھی تو ان میں کوئی نشانی دکھائی نہیں دیتی اور ناہی اس مرض میں مبتلاء کوئی بچہ اب تک سخت بیمار دیکھا گیا ہے تاہم آج ایک پندرہ دنوں کا بچہ اس وبائی مرض میں مبتلاء ہوکر اللہ کو پیارا ہوا ہے جو ہمارے لئے دلسوز خبر ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ بڑوں کے بنسبت بچوں کم اس وائرس کو پھیلاسکتے ہیں سکول بند ہونے کے نتیجے میں بھی یہ وائرس بچوں کے ذریعے سے کم ہی پھیل سکتا ہے ۔ انہوں نے ایک فرنچ سٹیڈی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک بچہ جو مختلف سکولوں میںبھیجا گیا اگرچہ اس کوکووڈتھا پھر بھی اس کی وجہ سے کوئی اور دوسرا بچہ یا شخص اس وائرس کا شکار نہیں ہوا۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ ہمیں سکول کھولنے میں اور انتظار کرنا چاہئے اور بچوں میں سماجی دوری برقرارکھنے کیلئے آسانی پیدا کرنی چاہئے تاکہ بچے اس موذی وائرس میں مبتلاء نہ ہوسکے۔ انہوںنے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر سکول کھولنے میں جلدی کی گئی اور کوئی بچہ اس وائرس میں مبتلاء ہوکر بس میں چڑھ گیا ، کلاس روم میں گیا تو عین ممکن ہے کہ اس بچے سے دوسروں کو وائرس پھیل جائے گا خاص کر ان کے اساتذہ کو بہت زیادہ خطرہ ہے جو اپنے اہلخانہ اور دیگر رشتہ داروں اور ہمسایوں تک یہ وائرس پہنچاسکتے ہیں۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.