امام صاحب شوپیان اور میج پانپور میں فوج و فورسز اور جنگجوئوں کے مابین مسلح تصادم آرئیاں اختتام پذیر

عسکری تنظیم حزب ، لشکر اور جیش سے وابستہ 8جنگجو جاں بحق ، کمین گا ہ تباہ

مسجد کا تقدس برقرار رکھتے ہوئے کوئی بارودی مواد استعمال نہیں کیا گیا ، جنگجو کیخلاف صرف آنسو گیس استعمال کی گئی / پولیس

سرینگر/19جون/سی این آئی// جنوبی ضلع پلوامہ کے میج اونتی پورہ اور شوپیان کے بنڈ پاوا امام صاحب علاقوں میںفوج و فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان طویل عرصہ تک جاری رہنے والی مسلح تصادم آرائیوں میںعسکری تنظیم حزب ، لشکر اور جیش سے وابستہ 8جنگجو جاں بحق ہو گئے ۔ فوج و پولیس نے دونوں مقامات پر جھڑپوں میں 8جنگجوئوںکی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسجد کا تقدس برقرار رکھتے ہوئے کوئی بارودی مواد استعمال نہیں کیا گیا اور محصور جنگجوئوں کیخلاف صرف آنسو گیس استعمال کی گئی جس سے وہ جاںبحق ہو گئے ۔ ادھر جھڑپوں کے بعد جنوبی ضلع پلوامہ اور شوپیان میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ خدمات بند رہی جبکہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔ ۔ سی این آئی کے مطابق جنوبی ضلع پلوامہ کے میج پانپور علاقے میں جنگجوئوںکی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج ،سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران علاقے کو بدھ اور جمعرات کی درمیان رات کو محاصرہ میں لیا ۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں جمعرات کی صبح قریب 2بجے اس وقت گولیوں کا مختصر تبادلہ ہوا جب علاقے میںجنگجوئوں نے محاصرہ توڑ کر فرار ہونے کی کوشش میں فوج و فورسز پر گولیاں چلائی ۔جھڑپ کی شروعات کے ساتھ ہی فورسزاہلکاروں کی اضافی کمک طلب کی گئی تاکہ جنگجوئوں فرار ہونے کا موقعہ نہ ملے۔علاقے کی طرف جانے والے تمام راستے بند کئے گئے اور علاقے کو چاروں طرف سے سخت گھیرے میں رکھا گیا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ طرفین کے مابین گولی باری محض کچھ ہی منٹوں تک جاری رہی اور ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میںہی ایک جنگجو جاں بحق ہو گیا جبکہ دو دیگر جنگجو ئوںنے نزدیکی مسجد شریف میں پنا لی تھی جس کے بعد شام دیر ہونے کے باعث جمعرات کی شام دیر گئے علاقے میں آپریشن جمعہ کی صبح تک معطل کر دیا گیا تھا جبکہ جمعہ کی صبح فوج و فورسز نے مسجد کا تقدس مد نظر رکھتے ہوئے مسجد میں محصور جنگجوئوں کو جاں بحق کرنے کیلئے مسجد میں آنسو گیس کے کچھ گولے مسجد کے اندر داخل ہو گئے جسکے نتیجے میں مسجد میں محصور دونوں جنگجو جاں بحق ہو گئے ۔آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ محصور جنگجوئوں کیخلاف مسجد کا تقدس برقرار رکھتے ہوئے کوئی بارودی مواد استعمال نہیں کیا گیا اور اْن کیخلاف صرف آنسو گیس استعمال کی گئی جس سے دونوں جاں بحق ہوگئے۔اس طرح یہاں جاں بحق ہونے والے جنگجو کی تعداد تین ہوگئی۔اسی دوران شوپیان کے بنڈ پاوا نامی گائوں میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج وفورسز نے محاصرہ شروع کیا ۔ عین شاہدین کے مطابق جمعرات کے بعد دوپہر علاقے میںاس وقت جھڑپ شروع ہوئی جب نزدیکی باغات چھپے بیٹھے جنگجوئوں نے فرار ہونے کی کوشش میں فوج و فورسز پر گولیاں چلائی ۔جھڑپ کی شروعات کے ساتھ ہی فورسزاہلکاروں کی اضافی کمک طلب کی گئی تاکہ جنگجوئوں فرار ہونے کا موقعہ نہ ملے۔علاقے کی طرف جانے والے تمام راستے بند کئے گئے اور علاقے کو چاروں طرف سے سخت گھیرے میں رکھا گیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی گولی باری میں ایک جنگجو جاںبحق ہو گیا تھا جبکہ جمعرات کی شام اس علاقے میں بھی آپریشن ملتوی کر دیا گیا اور جمعہ کی صبح علاقے میں جونہی دوبارہ آپریشن شروع کر دیا گیا تو وہاں کمین گاہ میں چھپے جنگجوئوں اور فورسز کے مابین دوبارہ آمنا سامنا ہوا اور کچھ گھنٹوں تک طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلے میں مزید چار جنگجو جاں بحق ہو گئے اور اس طرح سے اس جھڑپ میں مارے گئے جنگجو کی کل تعدادپانچ ہو گئی ۔فوج نے ایک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے بنڈپاوا نامی گائوں میں5جنگجو ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابھی جنگجو مخالف آپریشن جاری ہے۔ سیکورٹی فورسز اور جنگجوئوں کے مابین یہ معرکہ کل اْس وقت شروع ہوا جب فورسز نے بنڈ پاوا میں تلاشی آپریشن شروع کیا جس کے دوران جنگجوئوں اور فورسز کا آمنا سامنا ہوگیا اور طرفین نے ایک دوسرے پر گولیاں چلائیں۔پولیس کے ایک سنیئر افسر نے دونوں جھڑپوں میں آٹھ جنگجوئوںکی ہلاکت کی تعداد کرتے ہوئے بتایا کہ جھڑپوں میںمارے گئے جنگجو عسکری تنظیم حزب ، لشکر اور جیش سے وابستہ تھے اور ان کی شناخت کیلئے کارورائی جاری ہے ۔ ادھر جھڑپوں کے ساتھ ہی جنوبی کشمیر کے دونوں اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کر دی گئی تھی جو دوسرے روز بھی معطل رہی ۔ اسی دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے دونوں اضلاع کے حساس مقامات پر فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے ۔

Comments are closed.