اقوام متحدہ کے 43 ویں اجلاس میں تنازعہ کشمیر پر ہند پاک مندوبین پھر الجھ پڑے

جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی جاری ، خصوصی پوزیشن کا خاتمہ یکطرفہ فیصلہ / پاکستان

پاکستان کو بھارت کے اندرون معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں، جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ /بھارت

سرینگر/16جون/سی این آئی// اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں جموں و کشمیر کے مسئلہ پر ہند پاک مندوبین ایک مرتبہ پھر الکھ پڑے جس دوران انہوں نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی ۔ پاکستان نے جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اور جموںکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا معاملہ اٹھا جس پر بھارت نے اعتراض جتاتے ہوئے واضح کر دیا کہ جموں کشمیر بھارت کا اندرون معاملہ ہے اور پاکستان کو اس میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں ایک مرتبہ پھر جموں کشمیر مسئلے کی گونج سنائی دی ۔ یو این ایچ آر سی کے 43 ویں اجلاس میں پاکستان نے مسئلہ کشمیر اٹھا۔ اجلاس میں پاکستان کے مندوبین نے جموں کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جموںکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہے جبکہ بھارت نے غیر قانونی طور پر جموںکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرکے جموں کشمیر اور لداخ کو مرکزی زیر انتظام والے حصوں میں تبدیل کر دیا جو کہ اقوام متحدہ کی قرار داروں کی واضح خلاف ورزی ہے اور اس معاملے میں اقوام متحدہ کو اپنی مداخلت عمل میںلانی چائے ۔ پاکستان کے مندوب کے جواب میں اجلاس میں موجود ہندوستان کے مستقل مشن ، جنیوا کے پہلے سکریٹری ، سینتھل کمار نے پڑوسی ملک پر الزام عائد کیا کہ وہ بھارت کے خلاف اپنا "تنگ سیاسی ایجنڈا” قائم کرنے کے لئے کونسل اور اس کے طریقہ کار کا غلط استعمال کررہا ہے۔کمار نے کہا ، "یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان انسانی حقوق کونسل اور اس کے طریقہ کار کے غلط استعمال کے اپنے ٹریک ریکارڈ کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے پچھلے سال کے فیصلے میں کوئی بیرونی رکاوٹیںنہیں ہیں۔ کمار نے کہا کہ پاکستان امن و خوشحالی سے اترنے کی مذموم کوشش کے باوجود لوگ آگے بڑھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاپئے کہ وہ بھارت کے اندرون معاملات میں دخل اندازی کے بجائے اپنے معاملات کی طرف توجہ دیں ۔

Comments are closed.