کمرشل ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کسمپرسی کے شکار؛بچوں کو معمولی چاکلیٹ یا بسکٹ دینے کیلئے بھی پیسے نہیں
سرینگر/15جون: لاک ڈاون کے نتیجے میں کمرشل ٹرانسپورٹ ہنوز بند رہنے کے نتیجے میں ٹرانسپورٹروں کی مالی حالات کافی خراب ہوچکی ہے خاص کر گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کے اہلخانہ کی نوبت فاقہ کشی پر آچکی ہے ۔ اس دوران کئی گاڑیوں کے مالکان نے اپنی کمرشل گاڑیوں میں سبزی اور میوہ جات فروخت کرنے کا کام شروع کیا ہے تاکہ وہ اپنے اہل و عیال کا پیٹ پال سکیں ۔ دریں اثناء کمرشل ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ کمرشل ٹرانسپورٹ کی بحالی کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کوروناوئرس کے پیش نظر جاری لاک ڈاون میں اگرچہ نرمی کی گئی اور شہر سرینگر میں دکانیں کھولنے کی بھی اجازت دی گئی تاہم کمرشل ٹرانسپورٹ ہنوز معطل ہے جس کی وجہ سے کمرشل ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد میں کافی مایوسی پھیل گئی ہے ۔ ٹرانسپورٹروں نے کہا ہے کہ لاک ڈاون کے نتیجے میں اگرچہ دنیا بھر میں معمولات زندگی درہم برہم تھے لیکن اب جبکہ دھیرے دھیرے معمول کی سرگرمیاں بحال ہورہی ہیں کمرشل ٹرانسپورٹ کو بھی بحال کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ہیلتھ اور سرکار کی جانب سے جاری کردہ قواعد و ضوابط کی پاسداری کرتے ہوئے ٹرانسپورٹر گاڑیاں چلائیں گے اور گاڑیوں میں ایک تہائی مسافروں کو ہی لادیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ بنیادوں پر کمانے والے ٹرانسپورٹر گزشتہ برس کے ماہ اگست سے بیکار بیٹھے ہیں ایک طرف گاڑیوں کے نام پر بینکوں کا قرضہ ہے تو دوسری طرف اہل و عیال کا پیٹ پالنا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ٹرانسپورٹر کافی مشکلات کے شکار ہوچکے ہیں اور پریشانیوں کے بھنور میں ڈوب گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹر اپنے اہل و عیال کی ضروریات کو بھی پورا نہیں کرسکتے خاص کر مریضوں کے ادویات ، بچوں کو پڑھانے کیلئے درکار چیزیں بھی وہ اپنے بچوں کو مہیا نہیں کرسکتے ہیں۔ سی این آئی سٹی رپورٹر کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایک ڈرائیور نے کہا کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے ہیں لیکن جب دوسرے بچے اپنے گھروں سے پیسے لاکر بازار سے چاکلیٹ ، چپس یا بسکٹ لاتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو کمتر محسوس کرتے ہیں کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ ہمارا والد اس وقت بے روزگار ہے جس کے پاس بچوں کو معمولی چاکلیٹ دلانے کیلئے بھی پیسے نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گھر کا گزارا نہیں ہوپارہا ہے اور اپنی بیوی کے زیورات فروخت کرکے گزشتہ برس سے گھر کا گزارا کرتا تھا لیکن اب وہ پیسے بھی ختم ہوچکے ہیں ۔
Comments are closed.